قبول احمدیت کی داستان — Page 5
سے بہت کم واقفیت رہی۔انگریزوں کے زمانہ میں ہمارے چکوک آباد ہوئے۔اور تمہیں زمینیں ہیں۔خاکسار کا شجرہ نسب یہ ہے۔عزیز الرحمن ولد رائے غلام محمد ولد رائے احمد ولد جوہر ولد خان ولد فتح محمد ولد کمیر ولد رحمت الخ۔رحمت کے آباء و اجداد میں کسی بزرگ کا نام منگلا تھا۔جس کا نسب نامہ راجہ سیلوان سے جا ملتا ہے۔چک منگلا کی ذہنی تاریخ تقریبا دس سال پہلے کی اس عاجز کی عمر پانچ چھ سال تھی۔ضلع جہلم بھو چھال کلاں کے ایک عالم بزرگ المعروف مولوی منور دین صاحب سیاحت کرتے ہوئے ہمارے چک میں تشریف لائے آپ نصاب دیوبند کے فاضل اور سلسلہ نقشبندیہ کے مشہور بزرگ مولانا حسین علی صاحب کے خاص شاگردوں میں سے تھے۔اور اُن سے ہی روحانی فیض حاصل کرنے والے تھے۔اُن ایام میں ہمارا گاؤں ایک معمولی کو ر وہ سمجھا جاتا تھا۔اس جگہ دینی یا دنیوی علم کا نام و نشان نہ تھا۔دیہاتی لوگ صرف سادہ قرآن شریف پڑھ لینا ہی قیمت جاتے تھے۔اور وہ بھی چار چار پانچ پانچ سالوں میں مکمل ہوتا تھا۔پیر منور الدین صاحب موصوف ہمارے بزرگوں کی درخواست پر ہمارے گاؤں میں رہائش پذیر ہو گئے۔اور اعلان کیا کہ میں دوماہ میں قرآن مجید پڑھا سکتا ہوں۔چک کے تمام باشندے آپ کے مدرسہ میں داخل ہو گئے چھوٹے بڑے بچے بوڑھے مرد عورت سب نے قاعدے سیپارے لے کر پڑھنا شروع کر دیا۔