قبول احمدیت کی داستان — Page 4
بسم الله الرحمن الرحیم میری قبول احمدیت کی داستان منگلا قوم خدا تعالے کا ہزار ہزار شکر ہے میں نے اپنے فضل وکرم سے اس خاکسار کو حضرت محمد عربی سید الاولین والآخرین صلی الله علیہ وسلم کی امت میں پیدا کیا اور پھر اپنے مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت میں شامل ہونے کی توفیق بخشی اور ہمیں بھی کتائب محمدیہ کے آخری شکر میں بھرتی کر لیا۔فالحمد لله رب العالمین۔اس احقر کی پیدائش دسمبر 1 میں ہوئی بہماری قوم منگل راجپوت ہے۔اس قوم کے کئی خاندان فارو کہ ضلع سرگودہا میں آباد ہیں۔دو تین چکوک اس قوم کے کمالیہ کے گرد و نواح میں واقع ہیں۔چند جھوکیں لودھران ضلع ملتان میں آباد ہیں۔ایک چک ساہی وال شاہ پور کے قریب واقع ہے اسی طرح اس قوم کے افراد ضلع مظفر گڑھ اور ڈیرہ غازیخان میں بھی لیتے ہیں۔چک منگلا جس میں خاکسار کی رہائش ہے چک 7 شمالی رسول پور منگلا کہلاتا ہے جو ریلوے سٹیشن سو بھا گہ ضلع سرگودہا کے میں مشرق میں بفاصلہ دو میل واقع ہے۔ہمارے آباء و اجداد کا پیشہ شتر پروری اور شتر بانی رہا۔لہذا اس قوم کی سابقہ نسلوں کو علم معرفت 161