قبول احمدیت کی داستان — Page 14
۱۴ رہا اور ہزاروں لوگوں کو توحید کا پیغام سنایا گیا۔رات جب میں سوا تو خوب میں دیکھا چھوٹے چھوٹے خوا کے فرشتے تھے دس پندرہ میرے جسم کو دبا رہے ہیں اور نہیں حسب معمول جانتا ہوں کہ یہ فرشتے ہیں۔ایک فرشتہ مجھے کہتا ہے کہ اٹھ کر تہجد پڑھیں۔دوسرے فرشتے اس سے ناراض ہو کر کہتے ہیں۔کہ نہ جگاؤ۔اسے آرام کرنے دو۔مناظرہ کی وجہ سے اس کو دو تین دن کی تھکاوٹ ہے اور وہ بہت ہی پیار و محبت سے مجھے دبائے جارہے ہیں اور خواب میں اور جاگنے کے بعد میرے قلب میں ایسی لذت اور اطمینان اور سرور موجزن ہے۔جس کی کیفیت بیان نہیں ہو سکتی۔عطاء اللہ شاہ صاحب ان دنوں مولوی غلام اللہ خان صاحب بخاری سے مکالمہ خطیب راولپنڈی ہمارے پیر بھائی تھے کسی ا کام کے لئے میں ان کے پاس راولپنڈی گیا۔انہوں نے کہا چلو کل ہزارہ میں آل انڈیا احرار کا نفرنس ہے جا کر دیکھیں بذریعہ ریل ہم ہزارہ پہنچے۔مدر اس سے پشاور تک کے احرار جمع تھے۔وسیع پنڈال تھا۔جلسہ شروع تھا۔ہزار ہا لوگ جمع تھے بعطاء اللہ شاہ صاحب ایک مکان کے بالا خانہ پر آرام فرما تھے کیونکہ رات بھر تقریر کرتے رہے تھے مولوی غلام اللہ خان صاحب اور چند دیگر علماء پیچھے کے علاقہ کے اور خاکسار شاہ صاحب کی ملاقات کے لئے اوپر گئے۔شاہ صاحب ملے ہم کو یعنی مولوی حسین علی صاحب کے مریدین کو شاہ صاحب اچھا نہ جانتے