قبول احمدیت کی داستان

by Other Authors

Page 11 of 34

قبول احمدیت کی داستان — Page 11

جب پیر صاحب نے دیکھا کہ میں نے تمام عمران کی خدمت میں وقف کر رکھی ہے۔تو انہیں خیال آیا کہ یہ ایک ذہین لڑکا ہے اور ترقی کر سکتا ہے۔اور یکیں اس کی ترقی پذیر استعدادوں کو روکے بیٹھا ہوں۔تو انہوں نے مریدوں سے چندہ اکٹھا کر کے محض میرے لئے الگ استاد بلوانے کا پروگرام بنایا تا کہ میں بقیہ تعلیم کو مکمل کر سکوں چنانچہ میرے لئے دو تین اساتذہ علی المشاہرہ یہاں رکھے گئے اور میں نے دوبارہ تعلیم شروع کی۔میرے دو استاندہ | اول چکڑالہ کے ایک مشہور عالم مولوی نصیر الدین صاب نامی جو مولوی فاضل اور فاضل دیو بند تھے۔میرے استاد مقرر ہوئے۔یکی نے چار سبق شروع کئے مقامات مسطول۔ہدایہ اولین بیضاوی انہوں نے مجھے ہفتہ پڑھایا اور ساتویں دن وہ پیر صاحب کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگے۔میں اجازت چاہتا ہوں کہ وطن واپس جاؤں۔کیونکہ یہ لڑکا بقتنا مطالعہ کرتا ہے میں اتنا نہیں کر سکتا۔یہ ہر کتاب کے تقریبا ہیں ہیں صفحات روزانہ مطالعہ کر کے لاتا ہے جو صبح پڑھنے ہوتے ہیں۔اور مجھ سے اتنا مطالعہ نہیں ہو سکتا۔معلوم نہیں یہ حق ہے یا اسے کوئی فرشتہ پڑھا جاتا ہے۔چنانچہ استاد صاحب موصوف واپس چلے گئے۔اور مجھے کئی اپنی کتابیں مطالعہ کے لئے دے گئے۔اس کے بعد کھلانٹ ضلع ہزارہ کے ایک عالم مولوی حبیب الرحمن صاحب