عظیم زندگی — Page 39
۳۹ روح موت کے وقت ہمیشہ کے لئے جسم سے رخصت ہو جاتی ہے اور نیند میں عارضی طور پر رخصتی سے جاتی ہے مگر نیند سے اٹھنے پر جسم میں فوراً بجلی کی چمک کی مانند و اس آجاتی ہے۔جسم روح کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا اور روح جسم کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتی۔موت کے بعد رُوح روحانی ہالہ میں لیٹ جاتی ہے۔اس کی مثال روحانی نور کے ساتھ یا شیطانی تاریکی کے ساتھ دی جاسکتی ہے اور اس روحانی نور کی چھنک یا تاریکی کی گہرائی اِس بات پر منحصر ہے کہ اس میں کس قدر روحانی مقناطیسیت ہے جہاں سے یہ نور آ رہا ہے۔روح کے گرد جو ہالہ ہے یہ وہ رحم ہے جس میں سے روز قیامت یہ ایک روحانی تخلیق بن کر نکلے گی۔تبدیلی کے ایک مخصوص نظام کے مطابق روح ایک نئے روحانی جسم میں تبدیل ہوگی اس نئے جسم میں مادی جسم سے زیادہ قوت بخش روحانی خواص ہوں گے اور نیا روحانی جسم انسانی روح سے بہت زیادہ لطیف ہو گا جس کی خود ایک رُوح ہوگی۔یہ بیان کیا گیا ہے کہ جسم روح کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نیند کے وقت جب روح اس کو چھوڑ جاتی ہے تو جسم کیسے زندہ رہ جاتا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ اگر چہ روح نیند کے وقت باہر چلی جاتی ہے مگر دونوں میں ایک روحانی ڈوری کے ساتھ تعلق قائم رہتا ہے اور دونوں ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوتے۔ایک خلائی طیارہ زمین کی حدود سے نکل کر گتہ زمین سے باہر نکل جاتا ہے مگر زمین پر کنٹرول اسٹیشن اور طیارہ کے درمیان ریڈیائی تعلق قائم رہتا ہے جو اس بے ہوا بازطیارہ کو زمین پر واپس لا سکتا ہے میں تعلق روح اور جسم کے درمیان