عظیم زندگی — Page 68
۶۸ وَمَا يُلقها إلَّا الَّذِينَ صَبَرُوا وَمَا يُلَقَهَا إِلَّاهُ وَحَةً عظيم۔صبر سے متعلق ایک اور آیت یہ ہے :- (۳۶:۴۱) وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِه (۴:۱۰۳) روزے ہمیں ایمان کے اس لازمی حصہ کی طرف توجہ دلاتے ہیں جس کا نام صبر ہے۔باوجود جسمانی تکلیف کے روزہ کو آخر وقت تک رکھنا لازم ہے سوائے اس کے کہ کوئی یکلخت بیمار ہو جائے حقیقت تو یہ ہے کہ تقوی کی غذا ہی صبر ہے۔حالات کے مطابق یعنی موسم یا دن کے اوقات کے مطابق بعض دفعہ روزہ رکھنا مشکل یا آسان ہوتا ہے بعض لوگ اپنی جسمانی حالت کی بناء پر روزہ بہ نسبت بر دوسروں کے زیادہ محسوس کرتے ہیں۔روزہ کے دوران سختی کو مسکراتے ہوئے سونا ہی روحانی پختگی کی علامت ہے ہمیں سختی سہنے کے لئے دماغی طور پر ہر وقت تیار رہنا چاہیے کیونکہ یہ زندگی کا ایک حصہ ہے۔آیت کریمہ پر غور فرمائیں :- لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ فِي كَبَدِه (٥:٩٠) کامیاب روزوں کی وجہ سے انسان جسمانی اثرات سے محفوظ ہو جاتا ہے۔اس سے جسم ہلکا پھل کا اور روح میں بالیدگی پیدا ہوتی ہے۔انسان اس دنیا سے پار فرشتوں کے ساتھ اُڑتا ہوا محسوس کرتا ہے۔روزہ ہمیں یہ سبق سکھلاتا ہے کہ دماغ جسم پر حاوی رہے نہ کہ جسم دماغ پر۔اس کتاب میں پہلے بھی یہ ذکر کیا جا چکا ہے کہ جیسے انسان سوچتا ہے ویسے ہی وہ ہو جاتا ہے متقی بننے کے لئے ذہن میں نیک خیالات پیدا کرنے چاہئیں۔دعا ، اچھا مطالعہ