عظیم زندگی

by Other Authors

Page 43 of 200

عظیم زندگی — Page 43

۴۳ قرآن پاک میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ انسان کو مختلف مصائب میں مبتلا کر کے صبر سکھلاتا ہے فرمایا :- وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَى مِنَ الْخَونِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْأَمْوَالِ وَالاَنْفُسِ والثَّمَرَاتِ وَبَشِّرِ الصَّبِرِينَ هُ الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُم (۱۵۷ ۱۵۶:۲) مصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَهُ حقیقت تو یہ ہے کہ تکالیف اور مصائب کے دوران ہی انسان کی صحیح پہچان ہوتی ہے جبکہ انسان کو تمام نیکیوں سے افضل نیکی یعنی صبر کے مظاہرہ کا موقع ملتا ہے۔سفلی جذبات کو زیر کرنا کوئی آسان کام نہیں مبارک ہیں وہ لوگ جو اس میں کامیاب ہوتے ہیں۔بعض لوگ سب سے نیک اور بزرگ سمجھے جاتے ہیں مگر ذرا سی بات پر وہ اس قدر بے صبری اور غم و غصہ کا مظاہرہ کرتے ہیں کہ ان کے معتقدین حیران و ششدر رہ جاتے ہیں۔ہمارے اس مضمون کا مقصد پر سکون قلب کی جاذبیت کی طرف توجہ مبذول کرانا ہے تاکہ قارئین ایسی ذہنی کیفیت پیدا کریں اور اس ذہنی حالت کے پیدا کرنے کے لئے ایسے گر بتلائے جائیں کہ انسان ان بلندیوں کی طرف پرواز کر سکے۔جو شخص سکونِ قلب کی تلاش میں سرگرداں ہے اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ ہر ایسی حالت اور موقع سے آگاہ ہو جو اس کی روح کو برباد کر دے۔وہ روز مرہ زندگی کے ان تمام واقعات سے آگاہ ہو جہاں سے اسے ٹھوکر لگنے کا احتمال ہو اور وہ ان حادثات سے بچنے کے لئے مناسب اقدامات کرے۔اس عظیم مقصد کے حصول کے لئے یہ امر بہت مفید ہے کہ آنے والے خطرات سے محفوظ رہنے کیلئے