عظیم زندگی — Page 38
کرنا لازمی امر ہے کیونکہ نیک یا بد کام کرنے کی صلاحیت تو موت کے بعد ختم ہو جاتی ہے اگرچہ رُوحانی ترقی خدا تعالی کے فضلوں سے جاری رہتی ہے ، قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے :- يَوْمَ لا يُخْزِى الله النَّبِيَّ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ نُورُهُمْ يَسْعَى بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَبِأَيْمَانِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا أَثْمِمْ لَنَا نُورَنَا وَاغْفِرْ لَنَا إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرُه (۹:۲۶) تمام ارواح کا جنت میں مقام ایک جیسا نہ ہو گا کیونکہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ ہمیں خود بتلاتا ہے کہ ہر شخص کو جیسا اس نے کام کیا ویسا ہی اجر دیا جائے گا۔فرمایا وَلِكُلّ دَرَجتُ مِمَّا عَمِلُوا (۲۰:۲۶ ) اور ان سب کو ان کے اعمال کے مطابق درجات ملیں گے۔اور حدیث نبوی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں جو جہاد کرتے ہیں ان کے لئے جنت میں سو درجات ہیں اور ان کے درمیان اتنا ہی فاصلہ ہے جتنا کہ زمین اور آسمان کے درمیان ہے۔کیسی بھی مخلص مسلمان کو یہ نہیں مانا چاہیے کہ وہ اتنا نیک ہے کہ جنت میں اس کی جگہ لیتی ہے چنانچہ ایسا مسلمان اپنے آخری سانس تک اپنی روح کو چپکانے ہیں اور خدا کی طرف زیادہ رغبت میں کوشاں رہے گا یہ ہے اسلام کا اصل مقصد۔موت کے بعد روح واپس نہیں آئے گی۔کوئی مُردہ آدمی آج تک زندہ نہیں کیا گیا یہ خدا کا اٹل قانون ہے۔فرمایا : اللهُ يَتَوَكَّى الآنْفُسَ حِيْنَ مَوْتِهَا وَالَّتِي لَمْ تَمُتْ فِي مَنَامِهَا (۴۳:۳۹ )