عظیم زندگی — Page 2
| کریں۔اس آیت کریمہ میں خدا تعالیٰ کی عبادت سے مراد نماز پڑھنا ہی نہیں بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم اپنے خیالات میں اور اعمال اور کلام میں خدا کی صفات اختیار کریں اور نیک اخلاق کے ذریعہ اس کی حمد اور تعریف کریں حقیقت میں یہی ہماری ہستی کا مقصد ہے اور اسی پر ہمیں اپنی تمام توجہ مرکوز کر نی چاہئیے۔رفتہ رفتہ ہمیں اپنے ہر خیال ہر لفظ اور ہر کام حتی کہ ہمارے چہرہ کے آثار سے بھی نیکی کا نور نمایاں ہو۔مندرجہ ذیل دعا ہمارے لئے چراغ راہ ہونی چاہیئے :- الہی میری زبان کو نور سے بھر دے۔نور ہی میرے دائیں اور نور ہی میرے بائیں ہو۔نور ہی میرے اوپر ہو اور نور ہی میرے نیچے ہو اور نور ہی سے مجھے بھر پور کر دے یہ قرآن پاک میں ایک جگہ بیان ہوا ہے کہ نیکی کے انتہائی درجہ تک پہنچنا ہماری زندگی کا اولین مقصد ہونا چاہیے اور ہر مومن کی خواہش بھی یہی ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے۔اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ اثْقَكُمْ (۱۴: ۴۹) ترجمہ : یقینا تم میں سے معزز وہی ہے جو تم میں سب سے زیادہ متقی ہے۔ہماری بستی کا مقصد قرآن مجید کھلے الفاظ میں یوں بیان کرتا ہے کہ ہمیں نیکیوں کے کرنے میں سبقت حاصل کرنی چاہیئے۔اتنی عظیم الشان چیز کا ہمیں علم ہو گیا ہے تو پھر کسی اور خواہش کے حصول کی ضرورت ہی کیا ہے۔یقینا تمنائیں تو ہزاروں ہی ہوتی ہیں لیکن کیا ہی اچھا ہو کہ سب سے بڑی خواہش نیکیوں کے حصول کے لئے ہو اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں بیان فرمایا ہے کہ روزوں کا حکم اس لئے دیا گیا تا اخلاقی قد کو پانے کے لئے سعی کی جائے۔آئیهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصَّيَامُ كَمَا