عظیم زندگی

by Other Authors

Page xx of 200

عظیم زندگی — Page xx

جو موجوں کے ساتھ ساتھ اِدھر اُدھر ہچکولے کھاتی پھرتی ہو اس کے باوجو د بچپن ہی سے میرے دل میں خواہش تھی کہ میں کوئی غیر معمولی کام سرانجام دوں، اُس وقت میری عمر کوئی دس برس کی ہوگی جب میرے دل میں یہ خیال پنچنگی سے بیٹھ گیا تھا کہ میں عام لوگوں کی طرح زندگی نہ گزاروں بلکہ کوئی غیر معمولی کام کر کے دنیا میں نام پیدا کروں۔احمدیت قبول کر کے میں یہ محسوس کرتا ہوں کہ میں نے اپنی اس دیرینہ خواہش کو (جو میرے لاشعور میں ہر وقت موجود رہی ) پورا کیا ہے۔جیسا کہ درج ذیل واقعات سے ظاہر ہو گا۔جب ۱۹۳۵ء میں دوسری عالمگیر جنگ ختم ہوئی اور میں انگلستان واپس پہنچا تو میں فوری طور پر فوج سے فارغ کر دیا گیا تھا۔میں سیدھا اپنی والدہ کے پاس برسٹل ) URISTOL ) پہنچا اور چند دن قیام کرنے کے بعد لندن مسجد ڈھونڈنے نکل کھڑا ہوا جہاں اُس وقت مولنا جلال الدین نمی مرحوم امام مسجد تھے ہیں نے وہاں پہنچ کر اپنا تعارف کرایا اور مشن میں کام کرنے کی خواہش کا اظہار کیا اور ساتھ ہی اسلام کی خاطر زندگی وقف کر دینے کے ارادے کا بھی مولانا شمس یہ واقعہ بیان کرتے ہوئے رسالہ ریویو آف ریلیجنز میں تحریر کرتے ہیں :- " فوج سے فراغت حاصل کرنے کے بعد جب وہ انگلستان پہنچے تو دو دن اپنے عزیز و اقارب کے ساتھ رہنے کے بعد تیسرے دن وہ لندن مسجد پہنچے اور گفتگو کے دوران انہوں نے مسجد میں ہی قیام کر کے بطور مبلغ اسلام کام کرنے کی خواہش کا اظہار کیا نہیں نے انہیں ایک مبلغ کی ذمہ داریوں سے آگاہ کیا مگر وہ اپنے عزائم پر ڈٹے رہے