عظیم زندگی — Page 172
۱۷۲ ہے یا“ اسلام کیا ہے ؟ یہ ایسی آگ ہے جو تمام سفلی خواہشوں کو ختم کر دیتی ہے یہ جھوٹے خداؤں کو جلا دینے اور اپنی جارت و مال اور عزت کو خدا کی خاطر قربان کرنے کا نام اسلامی اصول کی فلاسفی ) ایک احمدی سے خدا اور حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کے اظہار کی توقع یوں کی جاتی ہے کہ وہ اپنی زندگی اسلام کے اصولوں کے مطابق ڈھال لے وہ دنیوی مال و دولت اور آسانیوں کو اس کی روحانی ذمہ داریوں کے آگے دیوار نہ بننے دے اس کے دماغ پر ہر وقت میں خیال چھایا ر ہے کہ وہ اپنے کردار کو خدا کی رضا اور خواہش کے مطابق ڈھال ہے۔حضرت مسیح موعود صرف مذہبی مسائل مثلاً ختم نبوت کے معنی حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات ، معراج کی حقیقت موت کے بعد زندگی وغیرہ کی وضاحت کرنے کے لئے تشریف نہ لائے تھے۔ان کی اہمیت اپنی جگہ لیکن آپ کی آمد کا اصل مقصد اسلام کے اصولوں پر عمل کے ذریعے عالم انسانیت کی اصلاح تھا۔ایک احمدی کا طرہ امتیاز اسلام جیسے دین فطرت سے مربوط تعلق ہونا چاہیے اور اس تعلق کا یہ حال ہو کہ خدا کے قوانین سے ذراسی بے تعلقی سے اس کو نفرت ہو۔حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں کہ اگر ایک احمدی کے دل میں ذرہ بھر بھی دنیا کی چاہت یا ملونی ہوگی تو وہ سنچا احمدی نہ گنا جائے گا جس کا مطلب یہ ہے کہ دنیوی لانچ یا حرص کی خاطر اسلام کے کسی قانون یا اصول کو نظر انداز نہ کرو۔ایک احمدی سے نہ صرف مذہب کی بنیادی تعلیمات پر غور کرنے بلکہ مذہب کی ضروری باتوں اور لطیف نقاط کو j