عظیم زندگی — Page 140
۱۴۰ کرے گا جس طرح زمین میں قیمتی دھاتیں مخفی ہیں اسی طرح یہ خدائی تھتے ہیں ایک دانا نہ صرف ان کو مزید ترقی دے گا بلکہ ان کو روح کی پرورش کے لئے استعمال کرتا ہے کیونکہ آنے والی زندگی میں یہ روحانی جسم کا بیج ہو گئی جو قیامت کے روز ایک خوبصورت مہکتے پھول کی طرح کھیلے گی۔میرے خیال میں منیم کتابوں کی کئی جلدیں بھی شاید اس اندرونی کائنات پر صرف محمد و د روشنی ڈال سکیں راقم الحروف اس موضوع کو کتاب ہذا میں مکمل طور پر بیان نہیں کر سکتا لیکن میرا مقصد یہاں چند ایک مفید نقاط بیان کرنا ہے جو قیمتی اور یقیناً باعث دلچسپی ہیں لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ صرف اللہ تعالیٰ ہیں اس موضوع پر حقیقی اتھارٹی ہے اِنَّ اللهَ يَعْلَمُ غَيْبَ السَّمَوتِ وَالْاَرْضِ وَ اللهُ بَصِيرُ بِمَا تَعْمَلُونَ ٥ (۲۹ : ۱۹) آئیے اب ہم اس باب کے نفس مضمون یعنی انسان کے چارجموں پر غور کریں۔ہمارا طبعی حسیم ہمارا طبیعی جسم حقیقت میں ہمارے اندر کے جسم کا آئینہ دار ہوتا ہے اور یہ مقولہ بالکل سچ ہے کہ " جیسے انسان سوچتا ہے ویسے ہی وہ ہوتا ہے ، طبعی جسم کو روح کا گھروندا بھی کہا گیا ہے اس لئے اس کو اندرونی اور بیرونی طور پر صاف رکھنا چاہئیے کیونکہ صفائی سے خدا کا قریبی رشتہ ہے۔قرآن مجید میں ارشاد ہے :- " والرُّجْزَ فَاهُجُرُه (۶:۴) (4:27)