عظیم زندگی — Page 82
کا بنا ہوا مجسمہ ہے۔ایک مستعد روحانی مسافر اس بات کو خوب جانتا ہے کہ شبستی اس کی روحانی ترقی کے راستہ میں ایک رکاوٹ ہے۔اس کا اظہار ایک انگریزی نظم میں کچھ یوں ہوا ہے ہے چاند کے تھے وہ سویا شورج کی دھوپ میں وہ لیٹا اس کی زندگی التوا میں گذرگئی وہ مر بھی گیا لیکن زندگی ہے کاج گذر گئی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خدا نے مجھ پر یہ بات نازل کی ہے کہ علیمی دکھاؤ تا کوئی ایک دوسرے سے بڑا نہ ہو اور نہ ہی کوئی اپنے آپ کو دوسروں سے بڑا سمجھنے میں فخر سمجھے۔فخر کئی ایک نامور علماء کے زوال کا باعث بن چکا ہے۔یہ چھکے چھپکے رفتہ رفتہ ایمان کو اس طرح کھا جاتا ہے جیسے سرطان جسم کو۔وقت نے ایمان کے ایک ایک ستون کو گرتے دیکھا حتی کہ خدا کا اندرونی گھر بھی مٹی کا ڈھیر بن گیا۔بے شک نیا گھر میرا نے گھر کے ملبے پر بتایا جا سکتا ہے لیکن یہ خلوص دل کے بغیر ممکن نہیں۔اللہ کی کتاب گمراہ لوگوں کو امید کی کرن یوں دکھاتی ہے : إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا وَ أَصْلَحُوا وَاعْتَصَمُوا بِاللَّهِ وَاخْلَصُوا دِينَهُمْ لِلهِ فَا وَلَبِكَ مَعَ الْمُؤْمِنِينَ (۲ : ۱۳۷) ۴ )