عظیم زندگی

by Other Authors

Page 81 of 200

عظیم زندگی — Page 81

کا ارشاد ہے کہ پانچ وقتہ نماز اس قدر توجہ اور خوف سے ادا کرو کہ گویا تم خدا کو اپنی جسمانی آنکھوں سے اپنے بالکل سامنے دیکھ رہے ہو۔ایک مومن چھٹی ہوئی نماز کا اسی طرح سوچے گا جس طرح ایک بھو کا انسان جھٹے ہوئے کھانے کا سوچتا ہے۔حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب نے ایک دفعہ فرمایا کہ وہ احمدی جس نے دس برس میں ارادہ ایک نماز بھی چھوڑی و مخلص احمدی نہیں کہلا سکتا۔بانی جماعت احمدیہ حضرت مرزا غلام احمد صاحب نے فرمایا کہ سورج کے طلوع ہونے سے قبل اٹھنا، وضو کرنا اور نماز ادا کرنے میں ذرا سی کوشش درکار ہے مگر ضبط نفس کے بغیر ترقی ممکن نہیں۔حقیقت روحانی زندگی پر اتنی ہی لاگو ہوتی ہے جتنی مادی زندگی یا معاشی زندگی میں ترقی کے لئے ضروری ہے۔ایک مسلمان کو زندگی کے ہر لحہ سے بھر پور فائدہ اٹھانا چاہیئے اور سستی سے پر ہیز کرنا چاہیئے۔اس مقصد کے حاصل کرنے کے لئے اسے دماغ اور جسم کو ہر وقت چوکس رکھنا چاہیے۔ہر قسم کے بُرے اعمال کو ترک کرو۔انسان کے اُٹھنے بیٹھنے اور چلنے پھرنے سے اس کے کیر دار کی نمایاں باتیں معلوم ہو جاتی ہیں۔آرام کرسی پر بیٹھنا ، سہارا لے کر کھڑے ہونا ،سڑکوں پر آوارہ گھومنا یہ سب بُری عادتیں ہیں جن سے شستی کا اظہار ہوتا ہے۔انسان کے ذہن اور اس کے اعضاء کا آپس میں گہرا تعلق ہے جیب اعضاء مست ہوتے ہیں تو ذہن بھی سست ہو جاتا ہے اور جب ذہن سست ہو تو اعضاء سست ہو جاتے ہیں۔انسانی زندگی کائنات کی عمر کے مقابلہ میں بہت کم ہے اور پھر اس کا تیسرا حصہ تو سونے میں گذر جاتا ہے لہذا عمل کا وقت بہت تھوڑا ہے۔کہا گیا ہے کہ شستی زندہ آدمی