اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 73
عہد نبوی میں جمع و تدوین قرآن 73 جو سب سے یقینی حفاظت ہے اس کلام کے شامل حال رہی۔بلکہ قرآن کریم کی حفاظت کے تمام تر اقدامات خود خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہی تھے اور ہیں۔اُس زمانہ کے حالات کو مد نظر رکھا جائے تو یہ حقیقت روشن تر ہو جاتی ہے کہ حفاظت قرآن کے یہ اسباب میسر آجانا اور صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کا اس جانثاری کے ساتھ حفاظت قرآن پر کمر بستہ ہو جانا بھی بذات خود الہی تائید کے لطیف اظہار ہیں۔آخر کیوں یہ سب اسباب صرف حفاظت قرآن کے لیے ہی اکٹھے ہوئے اور کیوں ایک قوم اس کتاب کی محبت میں عشق کی حد تک پہنچ گئی۔کیا رسول کریم پوری قوم اس طرح عاشق قرآن بنا سکتے تھے کہ وہ عشق پندرہ سو سال کے لمبے عرصہ پر محیط ہو جاتا اور ایک کے بعد دوسری نسل اسی عشق میں سرشار نکلتی؟ آپ تو شائد اپنے ہمعصر لوگوں میں بھی یہ جذبہ اس شان کے ساتھ پیدانہ کر سکتے جو کہ صدیوں سے امت محمدیہ کی زینت بن چلا آرہا ہے۔حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب خلیفتہ اسیح الثانی اصلح الموعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:۔اللہ تعالیٰ نے اسے ایسے عشاق عطا کئے جو اس کے ایک ایک لفظ کو حفظ کرتے اور رات دن خود پڑھتے اور دوسروں کو سناتے تھے۔اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کے کسی نہ کسی حصے کا نمازوں میں پڑھنا فرض مقرر کر دیا اور شرط لگادی کہ کتاب میں سے دیکھ کر نہیں بلکہ یاد سے پڑھا جائے۔اگر کوئی کہے کہ یہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک بات سوجھ گئی تھی تو ہم کہتے ہیں کہ یہی بات زرتشت ، موسیٰ اور وید والوں کو کیوں نہ سو بھی۔معلوم ہوتا ہے کہ اس کا سوجھانے والا کوئی اور ہے۔یہ بھی یادر ہے کہ ایسے آدمیوں کا میسر آنا جو اسے حفظ کرتے اور نمازوں میں پڑھتے تھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طاقت میں نہ تھا۔ان کا مہیا کرنا آپ کے اختیار سے باہر تھا۔اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ إِنَّا لَهُ لَحَفِظُونَ کہ ایسے لوگ ہم پیدا کرتے رہیں گے جو اسے حفظ کریں گے۔آج اس اعلان پر تیرہ سو سال ہوچکے ہیں اور قرآن مجید کے کروڑوں حافظ گذر چکے ہیں۔بعض یورپین ناواقفیت کی وجہ سے کہ دیا کرتے ہیں کہ اتنا بڑا قر آن کس کو یا درہتا ہو گا ؟ مگر قادیان ہی میں کئی حافظ مل سکتے ہیں جنہیں اچھی طرح سے قرآن یاد ہے۔چنانچہ میرے بڑے لڑکے ناصر احمد سلمہ اللہ تعالیٰ نے بھی گیارہ سال کی عمر میں قرآن کریم حفظ کر لیا تھا۔( حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد تفسیر کبیر جلدم زیر تفسیر آیت الحجر :10) پس ابن وراق ایسی معصومیت سے بات کر جاتا ہے کہ گویا کچھ علم ہے ہی نہیں کہ خدا تعالیٰ نے کس شان سے حفاظت قرآن کا انتظام کیا تھا۔اس ضمن میں یہاں مزید ایک اور حیرت انگیز ثبوت پیش کر کے آگے بڑھتے ہیں۔حفاظت قرآن کے ہی ضمن میں آنحضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ایک حکم کی تعمیل میں آپ کے اقوال اور