اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 72 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 72

الذكر المحفوظ 72 طرح ممکن ہے کہ تحریر میں کوئی آیت رہ گئی ہو یا غلط لکھی گئی ہو اور رسول کریم کو علم نہ ہو؟ پھر سب حفاظ بھی اس آیت کو بھول جائیں یا جو غلطی تحریر میں ہوئی ہے وہی غلطی یک بیک اور بالا تفاق سیکڑوں ہزاروں حفاظ کی یاداشت میں بھی ہوگئی ہو؟ پھر رسول کریم کی یادداشت میں بھی وہی غلطی راہ پاگئی ہو جو حفاظ سے تلاوت سنتے رہتے تھے پھر بھی آپ کو علم بھی نہ ہوا ہو اور پھر جبرائیل کے ساتھ قرآن کریم کے سالانہ دور میں بھی وہ غلطی درست نہ کی جائے؟ گویا خدا تعالیٰ کی نظر سے بھی رہ گئی۔کیا ان تمام تاریخی ثبوتوں کی موجودگی میں یہ ماننا آسان ہے کہ قرآن کریم محفوظ ہے یا وہم کو بنیاد بنا کر یہ وسوسہ پالنا کہ شائد کوئی غلطی ہوگئی ہو؟ ذرا ان تاریخی حقائق کو ذہن میں دہرائیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر انتہائی معمولی رفتار سے قرآن کریم نازل ہورہا ہے اور ساتھ ساتھ آپ کی نگرانی میں تحریر ہوتا جا رہا ہے اور آپ ہی کی نگرانی میں ساتھ کے ساتھ حفظ بھی ہو رہا ہے۔نمازوں اور محافل میں اس کی تلاوت ہوتی ہے۔دن رات درس و تدریس بھی جاری ہے اور ایسے صحابہ موجود ہیں جو گویا قرآن کریم حفظ کرنے اور اس کی تعلیم و تدریس کے لیے خود کو وقف کیے ہوئے ہیں اور صحابہ بھی ایسے جو قرآن کریم کی حفاظت کے معاملہ میں اس درجہ غیرت مند ہیں کہ قرآن کریم کے بارہ میں کوئی ادنی سی لغزش بھی برداشت نہیں کرتے یا لغزش نہ بھی ہومگر ان کے علم کے مطابق شک وشبہ والی بات ہو تو فوراً رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے فیصلہ لے لیتے ہیں۔پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم جبریل کے ساتھ ہر سال رمضان میں دہرائی کرتے ہیں۔ان حقائق کو مد نظر رکھتے ہوئے غور کیجیے کہ کیا یہ ممکن ہے کہ ادھر حافظ بھولے ادھر وہی غلطی تحریر کرنے والوں سے بھی ہوگئی اور پھر رسول کریم کی نظر سے بھی یہ بات اوجھل رہی ، جبرائیل بھی بھول گئے اور پھر جب حضرت ابوبکر کے زمانہ میں جمع قرآن پر امت کو گواہ بنایا گیا تب بھی ساری امت اس غلطی پر متفق ہوگئی ؟ حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفہ المسیح الثانی اصلح الموعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:۔حضرت عمرؓ حضرت ابوبکر کے پاس گئے اور انہیں جا کر کہا کہ۔۔۔قرآن کو ایک ہی جلد میں جمع کر دینا چاہیے۔۔۔جو کتاب گو ایک جلد میں اکٹھی نہیں کی گئی تھی لیکن بیسیوں صحابہ اسے لکھا کرتے تھے اور ٹکڑوں کی صورت میں وہ لکھی ہوئی ساری کی ساری موجود تھی۔اسے ایک جلد میں جمع کرنے میں کسی کو دقت محسوس ہو سکتی تھی؟ اور پھر کیا ایسے شخص کو دقت ہوسکتی تھی جو خود رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے زمانہ میں قرآن کی کتابت پر مقرر تھا اور اس کا حافظ تھا ؟ اور جب کہ قرآن روزانہ پڑھا جاتا تھا، کیا یہ ہو سکتا تھا کہ اس جلد میں کوئی غلطی ہو جاتی اور باقی حافظ اس کو پکڑ نہ لیتے ؟“ (دیباچہ تفسیر القرآن صفحہ 274 275) پھر حفاظت کے ظاہری تقاضوں کو پورا کرنے کے ساتھ ساتھ خدا تعالیٰ کی تائید ونصرت اور اس کی حفاظت