اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 37
عہد نبوی میں جمع و تدوین قرآن 37 اَلْفَضْلُ مَا شَهِدَتْ بِهِ الْأَعْدَاءُ Dr۔Maurice Bucaille مذہبی لحاظ سے عیسائی، ایک فرانسیسی سرجن ، اور مذہب اور سائنس کی دُنیا کی ایک نامور شخصیت ہیں۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں غرق ہونے والے فرعون "Meneptah" پر آپ کو تحقیق کے لیے چنا گیا۔آپ اپنی مشہور کتاب "The Bible The Quran and Science"میں لکھتے ہیں: It (Quranic Revelation) spanned a period of some twenty years and, as soon as it was transmitted to Muhammad by Archangel Gabriel, believers learned it by heart۔It was also written down during Muhammad`s life۔(The bible The Quran and Science (translation from French by Alastair D۔Pannel and The Ahthor)Under Heading Conclusions Pg 250-251) یعنی قرآنی وحی کا دورانیہ لگ بھگ 20 سال پر محیط ہے۔جو نہی یہ ( وحی ) جبرائیل کے ذریعہ ) تک پہنچائی جاتی ، مومنین فوراً اسے حفظ کر لیتے۔یہ محمد (ﷺ) کی زندگی میں ہی لکھ بھی لی گئی تھی۔قرآن کریم کے حفظ کے غیر معمولی تو اتر کے بارہ میں ممتاز مستشرق Kenneth Cragg رقم طراز ہیں:۔۔۔this phenomenon of Qur'anic recital means that the text has traversed the centuries in an unbroken living sequence of devotion۔It cannot, therefore, be handled as an antiquarian thing, nor as a historical document out of a distant past۔The fact of hifz (Qur'anic memorization) has made the Qur'an a present possession through all the lapse of Muslim time and given it a human currency in every generation, never allowing its relegation to a bare authority for reference alone۔" (Kenneth Cragg, The Mind of the Qur'an, London: George Allen & Unwin, 1973, p۔26) قرآن کریم کے حفظ کا اعجاز یہ ہے کہ متن قرآنِ کریم صدیوں کا سفر طے کرتے ہوئے انتہائی محبت اور خلوص اور وقف کی روح کے ساتھ ایک تواتر کے ساتھ ہم تک پہنچا ہے۔لہذا اس کے ساتھ نہ تو کسی قدیم چیز جیسا سلوک روا رکھنا چاہیے اور نہ ہی اسے محض تاریخی دستاویز سمجھنا درست ہے۔در حقیقت حفظ کی خوبی نے اس کتاب کو مسلم تاریخ کے مختلف ادوار میں زندہ و جاوید رکھا ہے اور بنی نوع کے ہاتھ میں نسلاً بعد نسل ایک معتبر متاع تھما دی اور کبھی بھی محض غیرا ہم کتابی صورت میں نہیں چھوڑا۔