اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 392
الذكر المحفوظ 392 اسی طرح قائلین نسخ ایک آیت پیش کرتے ہیں جس میں ایک واقعہ کا ذکر ہے کہ یہ بھی منسوخ ہوگئی ہے۔یہ بات بھی عجیب ہے۔حکم کے منسوخ ہونے کی کچھ سمجھ بھی آتی ہے کہ جو لوگ خدا تعالیٰ کی صفت قدوس کو عملی طور پر نہیں مانتے اور یہ تسلیم نہیں کرتے کہ خدا تعالیٰ ہر قسم کی غلطی سے پاک ہے وہ کہہ سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ایک حکم دیا اور پھر علم ہوا کہ اس حکم سے بہتر حکم دیا جا سکتا ہے تو اُس نے گزشتہ حکم منسوخ کر دیا اور نیا حکم نازل کر دیا لیکن واقعہ جو ہو چکا ہے وہ تو منسوخ نہیں ہوسکتا۔وہ تو معرض وجود میں آچکا اور ماضی کا حصہ بن چکا۔پھر اس کے منسوخ کرنے سے کیا مراد؟ کیا تاریخ جو وقوع پذیر ہو چکی منسوخ ہوسکتی ہے۔مثلا کسی قائل نسخ کے ساتھ یہ واقع ہو جائے کہ اس کا کوئی عزیز فوت ہو جائے اور وہ اپنے ہاتھوں سے اس کی میت کو غسل دے اور تجہیز و تکفین کرے۔اب وہ کس طرح اس واقعہ کو منسوخ کرے گا ؟ کیا وہ یہ اعلان کرے گا کہ یہ واقع ہوا تھا اب اسے منسوخ سمجھیں اور ماضی کا حصہ نہ سمجھیں؟ واقعہ کے منسوخ کرنے سے تو صرف یہی مراد ہو سکی ہے کہ جو واقعہ بیان کیا گیا ہے وہ درست نہیں تھا۔غلطی ہو گئی اس لیے وہ حذف کر دیا جائے۔مگر کیا خدا تعالیٰ سے ایسی غلطی کی امید رکھی جاسکتی ہے۔مفسرین کا بھی اس پر اجماع ہے کہ واقعہ منسوخ نہیں ہوسکتا۔قائلین نسخ کی طرف سے ایک من گھڑت اور عجیب و غریب واقعہ پیش کیا جاتا ہے کہ دو افراد تھے جن میں سے ایک نے ایک آیت پڑھنے کی کوشش کی تو اسے یاد نہ آئی۔اس نے دوسرے سے پوچھی تو اسے بھی بھول چکی تھی۔وہ باہر نکلے اور دوسرے صحابہ سے پوچھنے لگے مگر سب صحابہ کو بھول چکی تھی اور کوئی بھی اُس آیت کے الفاظ نہ بتا سکا۔یہ واقعہ کب ہوا؟ اُن دو افراد کے نام کیا تھے؟ وہ کس قبیلہ یا خاندان سے تعلق رکھتے تھے؟ وہ کیا کرتے تھے کہاں رہتے تھے؟ کسی قسم کی کوئی مستند تفصیل کتب تاریخ میں نہیں ملتی۔اس واقعہ کے راوی کون ہیں؟ کچھ علم نہیں ! بس درج کر دیا گیا کہ یہ واقعہ ہوا تھا کبھی۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں سینکڑوں حفاظ تھے مگر روایت میں دو ایسے صحابہ کا ذکر ملتا ہے جن کو کوئی نہیں جانتا اور ان کے آباء کا بھی علم نہیں۔روایت کے کچھ اصول ہیں ان پر بھی یہ روایت پوری نہیں اترتی کیوں کہ راوی بھی مذکور نہیں کہ کون ہیں۔پھر بھولنے والی بات تو عقل کو کسی طرح تسلیم نہیں کیونکہ اس صورت میں شور پڑ جانا چاہیے تھا۔پس یہ روایت درایت کے اصولوں پر پوری نہیں اترتی۔یہ بات بھی قابل غور ہے کہ ننسها کے معنی قرآن کے بھولنے کے کیسے لیے جاسکتے ہیں جبکہ قرآن خود فرماتا ہے کہ سَنُقْرِئُكَ فَلَا تَنسی چنانچہ جب قرآن کی حفاظت کا ذمہ خود خدا نے لیا ہے جو پھر اس کے بھولنے یا منسوخ ہونے کے کیا معنے؟ اللہ خود فرماتا ہے؛ إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ إِنَّا لَهُ لَحفِظُون پھر اگر بھلایا یا منسوخ کیا جاسکتا ہے تو پھر حفاظت کے کیا معنی؟ سوال یہ ہے کہ جب یہ مسئلہ اتنا ہے بعید از عقل ہے تو پھر کیوں امت مسلمہ میں اسقدر رائج ہو گیا؟ اس کا