اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 390 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 390

الذكر المحفوظ 390 پس قرآن کریم کی آیات کے معنے اور تفسیر کرنے کا ایک بہت بنیادی اصول اور ایک بہترین طریقہ یہ ہے کہ قرآن کریم کی آیات کے معنی قرآن کریم کی دوسری آیات کے مطابق کیے جائیں۔قرآن کریم آیات کے وہ معنی کرنے چاہئیں جو کہ تمام آیات کے مطابق ہوں اور یہ نہیں کرنا چاہیے کہ اپنی مرضی سے ایک آیت کے معنی کر لیے اور باقی آیات کو منسوخ قرار دے دیا۔یہ منشاء الہی اور منشاء رسول کے خلاف ہے۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تو نہیں فرمایا کہ القرآن ينسخ بعضه بعضا سوال یہ ہے اگر در حقیقت قرآن کریم میں کوئی آیت منسوخ نہیں ہے تو پھر کیوں بعض صحابہ نے بعض آیات کو منسوخ قرار دیا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ صحابہ اگر یہ لفظ استعمال کرتے تھے تو کسی قرآنی آیت کے منسوخ ہونے کے بارہ میں نہیں بلکہ اس کے عام رائج معنی کے منسوخ ہونے کے کرتے تھے کہ ئی نازل ہونے والی آیت نے پہلے سے نازل شدہ اس آیت کی تفسیر کر دی ہے اور جو معنی ہم سمجھتے تھے وہ معانی منسوخ ہو گئے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس بارہ میں رہنمائی کرتے ہوئے فرماتے ہیں: قائلمین شیخ کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ حقیقی اور واقعی طور پر حدیث سے آیت منسوخ ہو جاتی ہے بلکہ وہ لکھتے ہیں کہ واقعی امر تو یہی ہے کہ قرآن پر نہ زیادت جائز ہے اور نہ نسخ کسی حدیث سے لیکن ہماری نظر قاصر میں جو استخراج مسائل قرآن سے عاجز ہے یہ سب باتیں صورت پذیر معلوم ہوتی ہیں اور حق یہی ہے کہ حقیقی سخ اور حقیقی زیادت قرآن پر جائز نہیں کیونکہ اس سے اس کی تکذیب لا زم آتی ہے۔الحق مباحثہ لدھیانہ روحانی خزائن جلد 4 صفحه 93-92) پس نہ تو وحی الہی سے کوئی آیت کبھی منسوخ قرار دی گئی اور نہ ہی معانی سمجھ نہ آنے سے کوئی آیت منسوخ سمجھی جاسکتی ہے۔اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی وحی الہی سے کسی آیت کے منسوخ ہونے کا علم ہوتا یا آپ کا یہ منشاء ہوتا کہ معنوں کو دیکھ کر بظاہر متضاد آیات منسوخ قرار دے دی جائیں تو پھر لازمی تھا کہ جس طرح قرآن کریم کی آیات کی نزول کے ساتھ ہی اشاعت کی جاتی تھی اسی طرح آنحضور وحی الہی سے منسوخ ہونے والی آیات کی بھی سب صحابہ کو اطلاع کیا کرتے اور تاریخ میں ایسے واقعات محفوظ رکھے جاتے۔امت نے یہ واقعات تو محفوظ کر لیے جن میں آنحضور نے تفسیر القرآن بالقرآن کی تاکید فرمائی لیکن آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالہ سے ناسخ ومنسوخ کا ایک بھی واقعہ محفوظ نہ کیا۔عاقل را اشارہ کافی است! پس قرآن کریم کی تفسیر کے لیے یہ بنیادی اصول آنحضور صلی علیہ وسلم نے معین فرما دیا ہے کہ قرآن کریم کی آیات کے وہی معنی ہوں گے جو قرآن کریم کی دوسری آیات کے مطابق ہوں گے۔اگر کسی آیت کے ایسے معانی