اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 325 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 325

حفاظت قرآن کریم بر متفرق اعتراضات 325 انتہائی گھٹیا کردار کے مالک تھے۔انہیں اسلامی تعلیمات کی چنداں پرواہ نہ تھی۔یہ وہی خارجی تھے جنہوں نے حضرت عثمان کو شہید کیا اور پھر حضرت عثمان کی شہادت کو مزید سیاسی عزائم کے لیے استعمال کیا۔وہ مسلمانوں میں فساد اور فتنہ پیدا کرنے کے لیے قرآن کو نیزوں پر بلند کرتے اور کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ کا مطالبہ کرتے اور حضرت علی سے مطالبہ کرتے کہ قتل عثمان کے ذمہ دار افراد سے قصاص لیا جائے۔اب اگر یہ جھوٹے لوگ کہہ رہے ہوں کہ قرآن کریم میں تحریف ہوئی ہے۔پھر وہ کون سی کتاب تھی جس کے مطابق وہ فیصلہ چاہتے تھے؟ سیاسی عزائم پورے کرنے والی بے ایمان مفسد قوم جس کا علم اور ایمان سے کوئی تعلق نہیں ان کا قول جس قول کے ساتھ کوئی دلیل بھی نہ ہو کیسے حجت ہو سکتا ہے؟ بہر حال خارجی جو بھی تھے اس کا حفاظت قرآن کے ساتھ براہ راست کوئی تعلق نہیں ہے اس لیے اس تفصیل میں جانا مضمون سے انحراف کا موجب ہوگا۔صرف اتنا بیان کرنا مقصود ہے کہ اُن کو حضرت علی کا پیرو کار قرار دینا ابن وراق کی غلط بیانی ہے۔خارجی وہ پہلی قوم تھی جس نے خلفاء کی طرف غلط باتیں منسوب کرنا شروع کیں۔یہ جھوٹی تحریرات بنانے میں ماہر تھے۔پس یہ تو ایک ایسا سیاسی گروہ تھا جو عبداللہ بن سبا کے تحت ملک میں سیاسی ریشہ دوانیوں میں مشغول رہا کرتا تھا اور اپنے مزموم مقاصد کے حصول کے لیے ایسے بیان جاری کرتے رہتے تھے جن کا مقصد صرف سیاسی منفعت تھی اور بس۔خارجیوں کے بارہ میں حضرت رسول کریم ﷺ نے بطور پیشگوئی فرما دیا تھا کہ: میرے بعد میری امت میں ایک قوم ایسی پیدا ہوگی جو قرآن کریم پڑھیں گے مگر قرآن ان کی گردنوں سے نیچے نہ جائے گا۔وہ دین سے ایسے نکل جائیں گے گویا تیر کمان سے نکل جاتا ہے۔پھر وہ کبھی لوٹیں گے نہیں۔وہ بدترین اخلاق والی بدترین مخلوق ہونگے۔(بخاری کتاب الجهاد باب في قتال الخوارج) ابنِ وراق کے انتخاب کی بھی داد دینی پڑتی ہے کہ صرف اس دور کے دھوکہ بازوں اور غلطی خوردہ لوگوں کے حوالہ جات ہی اکٹھے نہیں کیے بلکہ اسلام کے ابتدائی دور میں بھی اپنے ہم تماش ڈھونڈ لیے۔پہلے بنو نجار کا گمنام عیسائی ڈھونڈ کر اُسے عبد اللہ بن سرح کا نام دیا اور اب عبد اللہ بن سبا ایک یہودی ڈھونڈ کر اُسے حضرت علی کا پیروکار بنادیا۔کسی نے کیا خوب کہا ہے۔کند ہم جنس باہم جنس پرواز۔لیکن اب تک کوئی ایک بھی مستند ثبوت پیش نہیں کیا بلکہ سارا زور جھوٹ اور دجل اور تاریخی حقائق کو مسخ کر کے پیش کرنے پر ہے۔پھر اس حوالہ سے بھی دیکھنا چاہیے کہ اگر تاریخی شہادت نہیں ہے تو پھر قرآن کریم کے اس چیلنج کو قبول کیا جائے۔قرآن کریم یہ چیلنج دیتا ہے کہ اگر تم سمجھتے ہو کہ قرآن کریم غیر اللہ کی طرف سے ہے تو پھر اس کی کسی سورۃ کے برابر ان خوبیوں کا حامل کوئی کلام بنا کر دکھاؤ۔یہ چیلنج بذات خود قرآن کریم کی حفاظت کی ایک دلیل اور پیشگوئی ہے۔اعتراض کیا جاسکتا ہے کہ قرآن مجید کلام الہی نہیں بلکہ انسانی کلام ہے۔محض زبان سے یہ کہ دینا