اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 7
7 حضرت مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام تشریف لائے۔آپ نے فرمایا: یا درکھو کہ اللہ تعالیٰ اپنے دین کیلئے غیور ہے۔اس نے سچ فرمایا ہے إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحفِظُون (الحجر: 10) اس نے اس وعدہ کے موافق اپنے ذکر کی محافظت فرمائی اور مجھے مبعوث کیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وعدہ کے موافق کہ ہر صدی کے سر پر مجدد آتا ہے اس نے مجھے صدی چہار دہم کا مجدد کیا جس کا نام کا سر الصلیب بھی رکھا ہے۔ہم اس سے تائید میں پاتے ہیں اور اس کی نصرتیں ہمارے ساتھ ہیں۔( ملفوظات جلد دوم صفحہ 371-370) اس تصویر کا دوسرا رخ یہ ہے کہ قرآنِ کریم کی پیروی سے وصالِ الہی کا مرتبہ پانے والے لوگ پیدا ہوتے رہیں گے اور جب تک قرآن کریم کی پیروی کی برکت سے مجدد اور مامور اس امت میں پیدا ہوتے رہیں گے یہ ثابت ہوتا رہے گا کہ قرآن کریم محفوظ ہے کیونکہ ذکر کے ایک معنے شرف اور نصیحت کے بھی ہیں۔قرآن کریم کا نام ذکر اس لیے رکھا گیا کہ اس کے ذریعہ سے اس کے ماننے والوں کو شرف اور تقویٰ حاصل ہوگا۔پس انا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِكرَ وَإِنَّا لَهُ لَحفِظُونَ میں اللہ تعالیٰ اس امر کی طرف بھی اشارہ فرماتا ہے کہ یہ کلام جس سے ماننے والوں کو شرف اور عزت اور تقویٰ ملے گا ہمارا ہی نازل کردہ ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں یعنی ان دعووں اور وعدوں کو عملاً پورا کرنا ہمارا ہی کام ہے۔اگر اس کی یہ صفات ظاہر نہ ہوں تو گویا اس کی تعلیم ضائع ہوگئی مگر ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے۔آغاز وحی سے ہی رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے زیر نگرانی قرآن کریم تحریری طور پر محفوظ کیا جانے لگا۔یوں ابتدا سے ہی اس کا ایک مخصوص متن تھا جو ایک تو اتر کے ساتھ ہم تک پہنچا۔ہر دور میں اس امر کی عقلی نفلی اور اجتماعی گواہی موجود رہی ہے کہ جو متن قرآن کریم کا آج ہمارے پاس موجود ہے وہ بعینہ وہی ہے جو آپ نے دُنیا کو دیا تھا۔آپ پر جو بھی وحی نازل ہوتی آپ اسے اسی وقت لکھوا لیتے تھے۔پھر ہر طرح تسلی کرنے کے بعد چنیدہ صحابہ کو حفظ کر وادیتے جو حفظ کے سلسلہ کو آگے بڑھاتے ہوئے دیگر صحابہ کو حفظ کراتے۔علاوہ ازیں جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم لکھوا کر صحابہ کو حفظ کرا دیتے تو پھر مختلف صحابہ اس نئی وحی کی نقول اپنے لیے بھی تیار کر لیتے۔یہ حفظ اور تحریرات گاہے گاہے آپ کی خدمت میں پیش کر کے مستند بنالی جاتیں۔اس درجہ احتیاط اور اخلاص کے ساتھ ساتھ بہت کثرت سے ہر تازہ وحی کو حفظ اور تحریری صورت میں محفوظ کیا جاتا کہ اس میں کسی قسم کی تحریف کا راہ پا جانا ممکن نہیں رہتا تھا۔پھر آپ وقتا فوقتا صحابہ کے پاس محفوظ قرآن کریم کو چیک کرتے رہتے۔اس کے ساتھ ساتھ تعلیم القرآن کا باقاعدہ ایک انتظام کے ساتھ سلسلہ جاری تھا جس کے نگرانِ اعلیٰ آپ صلی