اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 204
الذكر المحفوظ 204 شدہ تھی۔جس کے بارہ میں کسی قسم کا کوئی خطرہ نہ تھا اور ترتیب نزول کا علم بھی ایسا تھا جوصرف صحابہ تک محدود تھا جو اسے آگے منتقل کرنا اپنی ذمہ داری سمجھتے تھے اور واقعی اگر صحابہ یہ کارنامہ سرانجام نہ دیتے تو قرآن کے کئی معارف جو ترتیب نزول کی مدد سے سمجھنے آسان ہیں ہمشکل ہو جاتے۔اللہ تعالیٰ اُن سب کو جزا دے کہ کس باریک بینی سے ایک ایک قرآنی امانت کو ہم تک پہنچایا۔یہ سب حفاظت قرآن کے بارہ میں الہی تقدیر کا ایک نمونہ اور صحابہ کی قرآن کریم سے بے پناہ محبت اور اس امانت کی حفاظت کی ذمہ داری کا پوری شان کے ساتھ نبھانے کا زندہ ثبوت ہے۔(رضی اللہ نھم ) خلاصه مذکورہ بالا بحث سے یہ بات واضح ہو کر سامنے آتی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں آپ ہی کی نگرانی میں قرآن کریم کی دائمی ترتیب لگائی گئی جو آج بھی بلا رد و بدل ہمارے سامنے موجود ہے۔یہ ترتیب خود خدا تعالیٰ نے لگوائی تھی اور یہ وہی ترتیب ہے جس کے مطابق آپ اور آپ کے مقرر کردہ اساتذہ ، صحابہ کو قرآن کریم پڑھاتے اور سکھاتے تھے۔اسی ترتیب کے مطابق قرآن کریم حفظ کیا جاتا تھا اور اسی ترتیب کے مطابق نمازوں وغیرہ میں تلاوت کی جاتی تھی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی زندگی میں اس ترتیب سے قرآن کو ایک جلد میں جمع کرنا ممکن نہیں تھا کیونکہ ہمہ وقت تازہ بتازہ وحی کا نزول ممکن تھا۔مگر جب آپ کی وفات سے وحی شریعت کا نزول بند ہو گیا تو صحابہ نے حضرت ابو بکر کی نگرانی میں قرآن کریم کو تمام تر احتیاطی تدابیر، اور حفاظت کی جملہ شرائط پوری کرتے ہوئے اس فریضہ کو سر انجام دیا۔تمام امت اس میں براہِ راست شریک تھی اور ہر مسلمان پورے انشراح صدر کے ساتھ قرآن کریم کی جمع و تدوین پر متفق ہوتا چلا جار ہا تھا۔پھر یہ کام مخالفین کی آنکھوں کے سامنے ہو رہا تھا۔یہ تدوین بائبل کی طرح بند کمروں میں منعقد کی جانے والی مجالس میں نہیں بلکہ عوام الناس کے سامنے تمام تر ثبوتوں کے ساتھ کی جا رہی تھی۔ایک ایک لفظ پر پوری امت کی گواہی ثبت ہورہی تھی۔یوں گویا مسلمان اور غیر مسلم دونوں اس جمع و تدوین کے گواہ بنتے چلے جارہے تھے۔حکم و عدل علیہ السلام کا ارشاد: اس یقین محکم کی بنیاد حکم و عدل حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے اس قول فیصل پر ہے: ترجمه (از عربی عبارت):۔پھر اس کے بعد خلیفہ اول حضرت ابوبکر کھڑے ہوئے تا جمیع سور قرآن کو اس ترتیب کے مطابق جمع کرنے کا اہتمام کریں جس ترتیب کو انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے سنا تھا۔“ (حمامة البشری، روحانی خزائن جلد 7 صفحہ 217)