اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 203
قرآن کریم میں تحریف کے الزامات کے جواب 203 صاحب فراست حضرت عمر کی خاص نگرانی، اور کاتب رسول کے ہاتھوں اور تمام صحابہ رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی عام نگرانی میں ہوا اور صحابہ بھی وہ جن پر لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاس (البقرة: 44) کی عظیم ذمہ داری ڈالی گئی۔کیا ایسے اہم اور نازک کام کو ان خدا داد بصیرت رکھنے والے اور دوراندیش عظیم لوگوں نے ادھورا ، تشنہ اور مشتبہ چھوڑ دیا ہوگا ؟ نیز کیا ایسا ممکن ہے کہ پھر اس نامکمل کام کو حضرت عمر نے اپنے دورِ خلافت میں بھی مکمل نہ کیا؟ خصوصاً ایسے وقت اور پس منظر میں جب کہ اس ساری مہم کا مقصد ہی قرآن کو آخری کتابی شکل میں محفوظ کرنا تھا۔ہرگز ایسا نہیں ! بلکہ انہوں نے اپنا فرض کمال امانت، دیانت اور کمال صحت کے ساتھ ادا کر دیا تھا اور یقیناً کر دیا تھا اَللّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ وَبَارِكْ وَسَلِّمُ فِي هَذِهِ الدُّنْيَا وَ بَعْضٍ ثَانِ اگر اس امر محال کو تسلیم کر بھی لیا جائے تو بھی یہ نتیجہ نہیں نکل سکتا کہ قرآن کریم کی سورتوں کی کوئی ترتیب نہیں تھی۔کیونکہ سورتوں کی ترتیب ہونے اور بہت سے دلائل ملتے ہیں۔خصوصاً جبکہ یہ امر ثابت شدہ ہے کہ حفاظ موجود تھے، قرآن کریم کی درس و تدریس جاری تھی، صحابہ اپنے اپنے طور پر کثرت سے قرآن کریم کا دور مکمل کیا کرتے تھے۔پھر رمضان میں سارے قرآن کی دہرائی ہوتی تھی اور یہ سب ایک ترتیب سے ہی تھا۔پھر منازل کی تقسیم سے ایک خاص ترتیب کا علم ہوتا ہے جو صحابہ کرام میں آنحضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی حیات مبارکہ میں ہی رائج تھی۔پس سورتوں کی ترتیب تو اس دور میں ہر خاص و عام کے علم میں تھی۔اگر اس دور میں قرآنی مسودہ غیر مرتب شکل میں رکھ بھی دیا جا تا تو یہ کوئی ایسی بات نہیں تھی کیونکہ ہر شخص جانتا تھا کہ قرآن کریم کی اصل ترتیب کیا ہے۔حضرت ابوبکر کے جمع قرآن کا مقصد تو امت کی گواہی اکٹھی کرنا تھا کہ انہیں مکمل اطمینان ہے کہ یہ وہی قرآن ہے جو تم آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سیکھ چکے ہو۔ترتیب بدلنے پر امت مسلمہ نے یہ اعتراض کیوں نہ کیا کہ بیہودہ قرآن نہیں ہے بلکہ اس کی ترتیب بدل دی گئی ہے اس لیے ہم گواہی نہیں دیں گے کہ یہ نسخہ بعینہ وہی ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کے سپر د کیا تھا؟ پس اگر ترتیب نزول کے علاوہ پہلے سے کوئی ترتیب موجود نہ ہوتی اور حضرت ابو بکر ترتیب لگوا رہے ہوتے تو ضرور اختلاف رائے کی وجہ سے جھگڑا کھڑا ہو جاتا۔حضرت عثمان کے عہد خلافت میں امت مسلمہ میں جو اختلاف راہ پارہا تھا وہ ترتیب سور کا نہیں بلکہ مختلف قراء توں کی وجہ سے تھا۔پس آپ کے بارہ میں بھی یہ کہنا کہ اختلاف قراءت پر سورتوں کی نئی ترتیب قائم کر دی، سوال دیگر جواب دیگر والی بات ہے۔اس طرح تو بجائے اختلاف حل ہونے کے ایک نیا اختلاف پیدا ہو جاتا۔یہ بات بھی ذہن نشین رہنی چاہیے کہ قرآن کریم کی ترتیب نزول کبھی بھی مسلمانوں میں رائج نہیں رہی اور علمی میدان میں محققین قرآنی معارف کو سمجھنے کے لیے تو اسے استعمال کرتے رہے ہیں لیکن قرآن کریم کی دائمی ترتیب وہی ہے جو اللہ تعالی کی مقر فرمودہ ہے اور آنحضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے وصال سے پہلے صحابہ میں مکمل طور پر رائج اور محفوظ