اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 180
الذكر المحفوظ 180 آیت شمار کیا جائے یا نہ کیا جائے۔جماعت احمد یہ عالمگیر کی طرف سے شائع ہونے والے نسخہ ہائے قرآن کریم میں بسم اللہ شمار کر کے آیات کی تعداد 6347 اور رکوع کی تعداد 564 ہے۔پس یہ ایسا کوئی اختلاف نہیں کہ اس سے قرآن کریم کی حفاظت کے معاملہ میں شبہ پیدا ہو۔جارج سیل لکھتا ہے: Having mentioned the different editions of the Koran, it may not be amiss here to acquaint the reader, that there are seven principal editions, if I may so call them, or ancient copies of that book۔۔۔۔۔۔Of these editions, the first of Medina makes the whole number of the verses 6,000; the second and fifth, 6,214; the third, 6,219; the fourth, 6,226; and the last, 6,225۔But they are all said to contain the same number of words, namely, 77,639; and the same number of letters, vis۔, 323,015 (George Sale: The Koran; The Preliminary Discourse; Section 3; pg: 45,46) یہ کہنا کہ قرآن کریم کے مختلف متن ہیں ان سے کہیں قاری غلط فہمی کا شکار نہ ہو جائے کہ گویا سات مختلف بڑے متن ہیں۔اگر میں یہ الفاظ استعمال کروں کہ سات قدیم نسخہ جات ہیں (تو درست ہوگا ) ان میں سے پہلا جو مدینہ میں تھا اس کی آیات کا شمار 6,000؛ دوسرے اور پانچویں کی آیات کا شمار 6,614 تیسرے کی آیات کا شمار 6,619 چوتھے کی آیات کا شمار 6,226 اور آخری یعنی چھٹے کی آیات کا شمار 6,225 ہے۔مگر یہ کہا جاتا ہے کہ ان سب کے الفاظ کی تعداد ایک ہی ہے یعنی 77,639 اور یہاں تک کہ حروف کی تعداد بھی ایک ہی ہے یعنی 323,015۔اس وضاحت کی ضرورت اس لیے تھی کہ یہاں سے ابنِ وراق اپنے اس دجل کی بنیاد بنارہا ہے کہ قرآن کریم کے بہت سے متن تھے جو ایک دوسرے سے اختلاف رکھتے تھے۔آئندہ بھی حقائق کو الفاظ کے جامے میں اس طرح لیٹے گا کہ قاری نامہ نبی کا شکار ہوتا چلا جائے۔اسی طرح ابن وراق کی یہ بات بھی درست نہیں کہ سوائے نویں سورۃ اور الفاتحہ کے جو کہ پہلی ہے تمام سورتیں بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیم “ کے الفاظ سے شروع ہوتی ہیں۔سورۃ الفاتحہ بھی بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیم “ سے ہی شروع ہوتی ہے۔ایک مرتبہ پھرا ابن وراق حفاظت قرآن کریم پر حملہ کرتے ہوئے یہ تاثر دینے کی کوشش میں ہے کہ اگر واقعی قرآن خدا کی طرف سے نازل ہوا بھی تھا تو بھی اب موجودہ قرآن وہ نازل شدہ قرآن نہیں ہے کیونکہ علاوہ دوسری تبدیلیوں کے، اس کی اصل ترتیب یعنی ترتیب نزولی بھی بدل دی گئی ہے۔کہتا ہے : ” جس کسی نے بھی قرآن مدون کیا ہے اس نے زیادہ لمبی سورتیں شروع میں رکھی ہیں بلا تر تیب نزول۔۔ابن وراق جس کسی نے