اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 174 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 174

الذكر المحفوظ 174 کے اخلاق عالیہ کا مداح ہو اور آپ کے سچا ہونے پر دل و جان سے متفق ہو تو پھر آج کے متعصب سے متن انسان کے پاس بھی اس کے سوا اور کیا چارہ ہو سکتا ہے کہ تسلیم کر لے اور تعصب کسی اور جگہ نکالے۔اگر تسلیم نہیں کرنا تو پھر ایک ہی حل ہے کہ ابن وراق کے پاس چلا جائے۔دُنیا سے چھپ جائے۔آخر بد باطن کو دُنیا کا ہی ڈر تو ہوتا ہی ہے لیکن کیا ہی بدنصیبی ہے کہ دنیا کے لیے جھوٹ سے لیٹے تو پھر دنیا سے ہی چھپنا پڑا۔پس ابن وراق کا یہ کہنا کہ شیطانی آیات کے واقعہ سے معلوم ہوتا ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے نعوذ باللہ کوئی بددیانتی کی تھی ، غلط بات ہے۔در حقیقت یہ واقعہ تو کفار مکہ کی بددیانتی کا ثبوت ہے۔رسول کریم کی حیات مطہرہ کا مطالعہ کرنے والا انسان سوچ بھی نہیں سکتا کہ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ آپ ﷺ نے نعوذ باللہ کوئی غلط بات کی۔یہ تو کسی بد بخت مخالف کی بددیانتی تھی جس نے موقع کا فائدہ اُٹھا کر یہ حرکت کر دی۔اگر ( نعوذ باللہ ) رسول کریم کا مقصد کفار کو خوش کرنا ہی ہوتا تو کسی ایسے موقع پر کرتے جب ضرورت تھی۔مثلاً جب وہ حضرت ابو طالب کے پاس شکوہ لے کر آئے اور کسی بڑے رد و بدل کا مطالبہ نہ کیا بلکہ صرف یہ کہا کہ ہمارے بتوں کو بُرا بھلا نہ کہو اور جن آیات میں بتوں کی مذمت ہے انہیں نکال دو۔ہم اسی میں خوش ہو جائیں گے اور تمہیں انعام و اکرام سے بھی اور آئندہ کے لیے ترقی کے دروازے بھی کھول دیں گے۔عزت و وجاہت سے بھی نوازیں گے تو آپ ان کی بات مان لیتے۔جب شعب ابی طالب میں محصور تھے اس وقت کوئی رد و بدل کرتے۔جب طائف میں لہولہان ہوئے اس وقت کوئی رد و بدل کرتے۔جب جانثاروں پر ظلم وستم ہورہا تھا اس وقت کوئی رد و بدل کرتے۔جب گنے چنے جانثار شہید ہورہے تھے اس وقت خوش کرنے کی کوشش کرتے۔یہ کیا کہ بیٹھے بیٹھے نہ کوئی مطالبہ ہوا اور نہ ہی کوئی ظلم اور یک دم رد و بدل کر دیا۔پس اصل بات تو وہی ہے جو امام الزماں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الفاظ میں گزر چکی کہ ” پس یہی تو سیاہ باطنی کی نشانی ہے اور اسی سے تو ان کی اندرونی خرابی مترشح ہورہی ہے انبیاء وہ لوگ ہیں کہ جنہوں نے اپنی کامل راستبازی کی قومی حجت پیش کر کے اپنے دشمنوں کو بھی الزام دیا ، پس شیطانی آیات کے واقعہ سے اس بارا بن وراق کی ہی سیاہ باطنی اور اندرونی خرابی مترشح ہورہی ہے۔رسول کریم ﷺ کو قرآن کریم میں کسی رد و بدل کا موقع میسر نہیں تھا صلى الله اسی بحث کے اس ایک پہلو پر تو ہم نے بات کی کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم اخلاق فاضلہ کے اس مقام پر فائز تھے کہ آپ کی ذات سے کسی قسم کی بددیانتی کا تصور بھی محال ہے۔دوسرا پہلو یہ ہے کہ اگر کوئی شخص آپ کے اخلاق فاضلہ اور مقام عالیہ کو اپنے تعصب اور اندھے پن کی وجہ سے دیکھنے سے انکار کرتا ہے تو بھی اس کے لیے قرآن کریم