اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 165
قرآن کریم میں تحریف کے الزامات کے جواب 165 انہیں شر یرلڑکوں کے حوالہ کر دیتا۔وہ ان کو مکہ کے پتھر لے گلی کوچوں میں گھسیٹتے پھرتے جس سے ان کا بدن لہولہان ہو جاتا مگر ان کی زبان سے سوائے احد احد کے اور کوئی کلمہ نہ ادا ہوتا۔حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ان پر ڈھائے جانے والے یہ ظلم وستم دیکھ کر ایک بڑی قیمت دے کر انہیں خریدا اور آزاد کر دیا۔(اسد الغابۃ زیر حالات حضرت بلال) ہجرت کے ساتویں سال کے سفر کے وہ واقعات دیکھیں جب رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم اپنے بعض رؤیا اور کشوف کی بنا پر یہ سمجھے کہ اس سال مسلمان حج کر کے لوٹیں گے۔صحابہ کس درجہ پر یقین تھے کہ وہ بیت اللہ کی زیارت سے مشرف ہوں گے اور ایک ذرہ بھی ان میں شک کا عصر نہ تھا۔کیا ایک جھوٹے کی بات سُن کر ایسا یقین ہوتا ہے؟ اس وقت جب حج نہ ہوسکا تو شدید صدمہ کا شکار ہو گئے۔حضرت عمرؓ نے یہی سوال اُٹھایا کہ کیا آپ اللہ کے رسول نہیں ہیں اور اللہ کا وعدہ سچا نہیں؟ (بخاری کتاب المغازی باب غزوة الحديبية ) صلح حدیبیہ کے موقع پر الہی خبروں پر یقین کرتے ہوئے صحابہ پورے طور پر متیقن تھے کہ وہ ضرور خانہ کعبہ کا حج کریں گے۔مگر جب ایسا نہ ہوا تو اُن جانثاروں کا شدید صدمہ کا شکار ہو جانا اس بات کا کیسا واضح ثبوت ہے کہ ان کے وہم و گمان میں بھی کبھی یہ بات نہ آئی تھی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو خدا تعالیٰ کی طرف سے عطا ہونے والی خبروں میں کوئی شک بھی ہوسکتا ہے اور وہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی زبان سے کوئی ناحق بات بھی نکل سکتی ہے۔چنانچہ جب انہیں معلوم ہوا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہونے والی وحی کے مطابق یہ تو ثابت نہیں ہوتا کہ اسی سفر میں وہ حج کریں گے تو کس طرح اُن کے دل تسلی پا گئے۔اسی یقین کی دولت پر تو خدا نے صلح حدیبیہ جیسی نعمت سے نوازا تھا۔ار صحابہ کا یہ ایمان دن بدن بڑھ ہی رہا تھا کم نہیں ہورہا تھا اور عمر بھر کے تجربہ کے بعد انہوں نے یقین میں اور ترقی کی تھی۔چنانچہ لکھا ہے: حضرت خباب بن الارت رضی اللہ عنہ ان خوش نصیبوں میں سے تھے جنہوں نے چھٹے نمبر پر اسلام قبول کرنے کی سعادت پائی اس لیے سادس الاسلام کہلائے۔آپ آہن گری کا کام کرتے تھے مشرکین مکہ آپ کو سخت تکالیف دیتے حتی کہ آپ کی بھٹی سے کو ئلے نکال کر ان پر آپ کو لٹا دیتے اور چھاتی پر پتھر رکھ دیتے تا کہ آپ ہل بھی نہ سکیں۔آپ نے ایک لمبے عرصہ تک تکلیفیں اٹھا ئیں۔لوہے کی زرہیں پہنا کر آپ کو دھوپ میں ڈال دیا جا تا اور زرہیں دھوپ میں انگارہ ہو کر آپ کو جھلسا تیں۔آپ بے حال ہو جاتے مگر استقامت کا کوہ وقار بنے رہتے۔آپ نے ایک دفعہ بتایا کہ مجھے آگ کے انگاروں پر ڈال کر بھی گھسیٹا جاتا پھر میری کمر کی چربی