اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 134 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 134

الذكر المحفوظ 134 سچ اور جھوٹ کا ذکر آتا تو بے اختیار ہو جاتا۔لاچاری سے کہ اٹھتا کہ میں یہ کہ ہی نہیں سکتا کہ محمد(ﷺ ) جھوٹ بول رہا ہے۔ہاں زیادہ سے زیادہ یہ کہ سکتا ہوں اس کی تعلیم غلط ہے ( ترمذی ابواب النفسیر )۔کوئی سردار ہر لحاظ سے غور کرتا تو بے اختیار ہوکر کہہ اٹھتا کہ یہ تو کہہ سکتا ہوں کہ محمد ( نعوذ باللہ ) غلطی خوردہ ہے مگر یہ نہیں کہ جھوٹ بول رہا ہے۔پھر امیہ بن خلف کو بھی نہ بھولو۔بے شک وہ بھی آنحضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا جانی دشمن تھا مگر آپ کی صداقت کی گواہی تو اس نے بھی دی تھی۔وہ کہتا تھا " والله ما يكذب محمد اذا حدث “(بخاری کتاب علامات النبوة) كه خدا کی قسم ! محمد ﷺ ) جب بات کرتا ہے تو جھوٹ نہیں بولتا! الغرض یہ وہ گواہیاں ہیں جو حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے بارہ میں اُس دور میں اپنوں بیگانوں اور دوستوں اور دشمنوں نے دیں۔حضرت فاطمہ الزہرا کی گواہی آپ نے سنی کہ کس طرح اپنے آقا کی صداقت پر یقین کامل تھا کہ موت کی خبر پر بھی مسکرا دیتی ہیں۔مگر بعینہ یہی گواہی ایک مخالف نے بھی تو دی۔جب وہ جنگ اُحد کے خاتمہ کے بعد رسول خدا(ﷺ) پر حملہ آور ہوا جب کہ آپ کو ہ اُحد پر پناہ گزین تھے۔ایسے میں آپ نے کمال شجاعت اور مردانگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے صحابہ سے فرمایا کہ اسے حملہ آور ہونے دو اور نہ روکو اور خود آگے بڑھ کر اُس کے حملہ کے جواب میں اُس پر نیزہ سے وار کیا۔نیزہ اسے لگا اور وہ شخص دیوانہ وار چلا تا اور دہائی دیتا ہوا واپس بھاگ گیا۔اس کی قوم نے اُسے کہا کہ اتنا واویلا کرنے کی کیا ضرورت ہے۔زخم کاری تو نہیں۔اس پر وہ کہنے لگا کہ میں ضرور اس زخم سے مر جاؤں گا کیونکہ مجھے ایک دفعہ محمد (ﷺ) نے کہا تھا کہ تیری موت میرے ہاتھ سے ہوگی۔پس یہ تھا اُن لوگوں کا آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت پر یقین اور یہ یقین غلط نہیں تھا۔اُس شخص کی موت اُسی زخم سے ہوئی۔(بخاری کتاب المغازی ابواب غزوہ اُحد) پس اے دشمن نادان و بے راہ !!! ہمعصر نامی مخالفوں اور جانی دشمنوں نے بالا تفاق میرے آقا کو سچا اور راستباز کہا ہے۔اب تو اپنی حسرتوں کی آگ میں جل بھی مرے تو بھی کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔اور بالفاظ مسیح الزماں: اے ایسی طبیعت کے آدمی!! تو بھی اس قادر مطلق سے خوف کر جس سے آخر کار تیرا معاملہ ہے اور دل میں خوب سوچ لے کہ جو شخص حق کو پا کر پھر بھی طریقہ ناحق کو نہیں چھوڑتا اور مخالف پر ضد کرتا ہے اور خدا کے پاک نبیوں کے نفوس قدسیہ کو اپنے نفس امارہ پر قیاس کر کے دنیا کے لالچوں سے آلودہ سمجھتا ہے حالانکہ کلام الہی کے مقابلہ پر آپ ہی جھوٹا اور ذلیل اور رسوا ہورہا ہے ایسے شخص کی شقاوت اور بدبختی پر خود اس کی روح گواہ ہو جاتی ہے۔براہین احمدیہ چہار حصص روحانی خزائن جلد اول صفحہ 353,354 ایڈیشن اول صفحہ 304 ) میرے آقا کی صداقت کی یہ گواہیاں تو آج بھی دی جارہی ہیں۔ایک مستشرق ، واشنگٹن آئر ونگ ، آپ کی سوانح کے مطالعہ کے بعد کہتا ہے: "In his private dealings he was just۔He treated friend