اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 130 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 130

الذكر المحفوظ ملا تھا الامین 130 سب سے بڑھ کر قابل اعتماد ! یہ ہیں میور صاحب۔تعصب نے جوش مارا تو کہ دیا کہ ” ہو سکتا ہے کوئی ردو بدل کر دیا ہو۔“ جب حقائق کا مطالعہ کیا تو یہ گواہی دے دی۔یہ ان متعصب مستشرقین کی فطرت کا حقائق سے تضاد کا ادنی سانمونہ ہے۔معاشرہ میں ایسی نکھری اور اجلی شخصیت کے طور پر ایسا مشہور ہونا کہ ساری قوم کا آپ کو صادق اور امین کا خطاب دے دینا، یہ حقیقت اور بھی واضح ہو جاتی ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ اس معاشرہ میں نیکی اور عمدہ چال چلن بالکل معدوم ہو چکا تھا اور ان اقدار کی کوئی اہمیت باقی نہیں رہی تھی۔عزتوں کے پیمانے بدل چکے تھے۔چنانچہ اس دور کی تاریخ اور ادب جو وہ معاشرہ پیش کرتا ہے اس کے مطابق ظلم زیادتی ،فستق بدکاری، ناجائز حرکات اور دیوشیت عظمت کے پیمانے ٹھہر چکے تھے اور اس دور میں حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا بے داغ اسوہ اور بے نظیر اخلاق آج بھی تسلیم کیے جاتے ہیں۔کسی صاف معاشرہ میں اچھا بن کر رہنا مشکل نہیں۔لیکن ایک گندگی سے لتھڑے معاشرہ میں بے داغ کردار یقیناً عام حالات کی نسبت بہت زیادہ غیر معمولی بات ہے۔عرب کی اخلاقی اور سماجی حالت کو ذہن میں رکھتے ہوئے غور کریں کہ اس دور میں ایسے اعلیٰ اخلاق کا مظاہرہ اس شان سے کرنا کہ پورا سماج آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کا نام آتے ہی عظمت اور شوکت کے اپنے خود ساختہ پیمانوں کو خود ہی تو ڑ دیتا تھا اور آپ کے صادق اور امین ہونے کی گواہی دینے لگتا۔کس درجہ عظیم الشان گواہی ہے! کس قدر مجبور تھی وہ قوم کہ جن کے ارباب بسط و کشاد، جب بھی حقیقی عزت اور مرتبہ کی بات آتی تو سر اسی نوجوان کے آگے جھکاتے۔پھر جب آنحضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی بعثت ہوئی تو پہلے قوم کو گواہ بنایا کہ تم بتاؤ کہ اب تک کی زندگی پر تو تمہیں کوئی اعتراض نہیں؟ اور پھر قوم کا گواہ بن جانا اور اس وقت یہ اعتراف کرنا کہ تمہاری گزشتہ زندگی اس بات کی دلیل ہے کہ کوئی ایسی بات تمہارے منہ سے نہیں نکلی اور نہ ہی نکل سکتی ہے جو جھوٹی، نا قابل اعتبار اور سچائی کے معیار سے گری ہوئی ہو۔جسے ہم رو کر سکیں اور گواہی بھی اس شان کی کہ کوئی ایک بھی تو نہ تھا جو پیچھے ہٹا ہو یا قوم کی گواہی میں اپنی گواہی شامل کرنے سے ذرہ بھی ہچکچایا ہو۔فرمایا اگر میں کہوں کہ اس پہاڑی کے پیچھے ایک لشکر تمہاری تباہی کی غرض سے جمع ہے تو میری بات مان لو گے؟ سب نے بیک زبان کہا کہ ہاں !!! کیوں کہ آپ صادق اور امین ہیں اور آپ کی ذات سے ہمیں کبھی جھوٹ کا تجربہ نہیں ہوا۔یہ اقرار کوئی عام اقرار نہ تھا، قومی اقرار تھا۔ذرا نظر غور دیکھیے کہ اس قوم کو آنحضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی صداقت پر کس قدر کامل یقین تھا کہ اہل مکہ کے چروا ہے روزانہ اپنے مویشیوں کے ساتھ دور دور تک نکلتے تھے۔صبح سے شام تک وہ لوگ صحرا نوردی کرتے۔جب بھی حملہ ہوتا تو سب سے پہلے چرواہے ہی شکار بنتے۔پس اگر در حقیقت کوئی لشکر ہوتا تو لازماً ان کو خبر ہوتی۔کچھ ہی دیر ہوئی تھی کہ وہ اپنے مویشیوں کے ساتھ خیر وعافیت سے لوٹے تھے اور اب اس دعوت میں