اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 129
قرآن کریم میں تحریف کے الزامات کے جواب 129 طلب کرنے کی ضرورت بھی اس لیے محسوس نہ کی کہ آپ کی زندگی کے شب و روز ان کے سامنے تھے جو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو یہ ماننے پر مجبور کر رہے تھے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے سوائے سچائی کے اور کچھ نکل ہی نہیں سکتا۔(بخاری کتاب المناقب باب مناقب ابوبکر) دور آپ نے ایک بہت ہی بھر پور سماجی زندگی گزاری۔تفصیل کے بیان کا تو موقع نہیں لیکن ایک طائرانہ نگاہ ڈالیے۔خانہ کعبہ کی تعمیر میں رضا کاروں کے ساتھ مل کر کام کیا۔۔۔۔جنگ کے دوران افواج کی مددکی۔۔۔اصلاح معاشرہ کی خاطر بنائی گئی تنظیموں میں بھی شامل ہوتے رہے جیسے حلف الفضول۔۔۔۔۔سماجی تقریبات میں بھی شریک ہوتے رہے۔لین دین کے معاملات کی طرف نظر کیجیے۔پھر بڑے بڑے کامیاب تجارتی ورے کیے۔۔۔اتنی بھر پور اور کھلی کتاب کی مانند سماجی اور معاشرتی زندگی گزاری کہ اس کی مثالوں سے تاریخ بھری پڑی ہے۔ان سب پہلوؤں پر قریب سے نظر کرنے کے بعد پھر اس قوم کا آپ کو صادق اور امین کا خطاب دینا ایک ایسی گواہی ہے کہ اس شان کی گواہی اور کسی شخصیت کے حق میں کبھی نہیں دی گئی۔یہ ایک ایسی گواہی ہے کہ ہر قسم کے تعصب کو چیرتی ہوئی آج بھی مخالفین کے دلوں کی گہرائیوں سے نکل آتی ہے۔چنانچہ و بیلیم میور جیسا متعصب انسان بھی یہ کہنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ: "Our authorities all agree in ascribing to the youth of Mohammad a modesty of deportment and purity of manners rare among the People of Mecca۔۔۔Endowed with a refined mind and delicate taste, reserved and meditative, he lived much within himself, and the ponderings of his heart no doubt supplied occupation for leisure hours spent by others of a lower stamp in rude sports and profligacy۔The fair character and honorable bearing of the unobtrusive youth won the approbation of his fellow-citizens; and he received the title, by common consent, of Al-Ameen, the Trustworthy۔" (William Muir:Life of Mohammad,London1903۔Intorduction pg17) یعنی ہماری تمام تر تحقیقات اس معاملہ میں متفق ہیں کہ محمد (ﷺ) کی جوانی توازن اور پاکیزگی کا شاہکار تھی جو اس دور کے عربوں میں مفقود تھا۔ایک اُجلا ذہن اور نفیس طبیعت، مفکرانہ انداز، وہ اپنے آپ میں ہی مگن رہتے تھے۔اپنے دل میں کسی گہری سوچ میں غرق۔اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ نے بہت سے قیمتی اوقات مراقبہ میں گزارے جبکہ دوسرے لوگ وہ وقت کسی ادنی درجہ کی مصروفیت یا کھیل تماشہ میں گزار دیتے تھے۔شفاف کردار اور جوانی کے دنوں میں با کردار اطوار نے باقی بستی والوں کے دلوں کو جیت لیا تھا اور عوام میں آپ کو خطاب