اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 78 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 78

الذكر المحفوظ 78 قرآن کریم ایک جلد میں جمع نہیں تھا۔چنانچہ روایات کا مطالعہ بھی یہی ثابت کرتا ہے۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:۔رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے زمانہ میں قرآن اس طرح ایک جلد میں نہ تھا جس طرح اب ہے۔حضرت عمرؓ کو یہ خیال پیدا ہوا کہ لوگ یہ نہ سمجھیں کہ قرآن محفوظ نہیں۔اس لیے انہوں نے اس بارہ میں حضرت ابو بکر سے جو الفاظ کہے وہ یہ تھے کہ إِنِّي أَرَى أَنْ تَأْمُرَ جَمْعَ الْقُرآنِ میں مناسب سمجھتا ہوں کہ آپ قرآن کو ایک کتاب کی شکل میں جمع کرنے کا حکم دیں۔یہ نہیں کہا کہ آپ اس کی کتابت کرا لیں۔پھر حضرت ابوبکڑ نے زید کو بلا کر کہا کہ قرآن جمع کرو۔چنانچہ فرمایا جمعہ اسے ایک جگہ جمع کر دو یہ نہیں کہا اسے لکھ لو۔غرض یہ الفاظ خود بتارہے ہیں کہ اس وقت قرآن کے اوراق کو ایک جلد میں اکٹھا کرنے کا سوال تھا لکھنے کا سوال نہ تھا۔فضائل القرآن صفحہ 25 26 حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب خلیفہ اسیح الثانی المصلح الموعودرضی اللہ عنہ ) سوال یہ ہے کہ جب اتنی جانفشانی سے حفاظت قرآن کا اہتمام کیا جا رہا تھا۔اس کو تحریری شکل بھی دی جاتی تھی ، اس کو ساتھ ساتھ حفظ بھی کیا جاتا تھا، اس کی درس و تدریس کا سلسلہ بھی جاری تھا، نمازوں میں اور مجالس میں تلاوت بھی کی جاتی تھی، دن رات صحابہ اس کی درس و تدریس میں مشغول رہتے تھے، تو پھر کیوں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو ایک جلد میں اور کتابی شکل میں جمع نہیں کیا ؟ اس ضمن میں پہلے مختصر طور پر عرض ہے کہ جب تک وحی الہی مکمل نہیں ہو جاتی عملاً ایسا کرنا ناممکن تھا۔کیونکہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم جب تک بقید حیات تھے تازہ بتازہ وحی کا نزول متوقع تھا اور اور ہمہ وقت انتظار کی سی کیفیت ہوتی تھی کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے نئی آیات نازل ہوں۔پس جب تک کہ یہ یقین نہ ہو جاتا کہ قرآن مجید کا نزول مکمل ہو گیا ہے اُس وقت تک آخری حتمی شکل میں ایک کتاب کی صورت میں لکھا اور جمع کیا ہی نہیں جاسکتا تھا۔اور اس بات کا یقین صرف رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی وفات سے ہی ہوا کہ قرآن کریم کا نزول مکمل ہو گیا ہے کیونکہ اس کا نزول صرف آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ذات بابرکات سے ہی خاص تھا۔دوسری وجہ جس لیے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کریم کو ایک کتاب کی شکل میں پیش نہ کیا، یہ تھی کہ قرآن کریم کی نزولی ترتیب اس کی دائی ترتیب سے مختلف تھی۔ایسا نہیں تھا کہ جس ترتیب میں آیات نازل ہورہی تھیں اسی ترتیب میں قرآن کریم میں مندرج ہوتی جا رہی تھیں۔بلکہ بعد میں نازل ہونے والی آیات پہلے نازل ہونے والی آیات سے پہلے بھی رکھی جاتی تھیں۔یعنی بہت سی نئی نازل ہونے والی آیات ان آیات سے پہلے بھی رکھی جاتیں جو کہ بہت پہلے نازل ہو چکی ہوتیں۔ہر آیت کے نزول پر جبریل علیہ السلام آنحضور گو اس کی جگہ بتاتے تھے کہ