اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 77 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 77

عہد خلافت راشدہ میں جمع و تدوین قرآن 77 عہد خلافت راشدہ میں جمع و تدوین قرآن گزشتہ سطور میں یہ ثابت ہو چکا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زیر نگرانی صرف انصار میں سے کم از کم پانچ صحابہ تحریری طور پر مکمل قرآن کریم جمع کر چکے تھے۔لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دور مبارک میں قرآن کریم ایک جلد میں کتابی صورت میں سامنے نہیں آیا تھا۔بخاری کی اس روایت سے بھی یہ حقیقت واضح ہوتی جس میں یہ ذکر ہے کہ جب حضرت عمرؓ نے حضرت ابوبکر کی خدمت میں جمع قرآن کی تجویز پیش کی تو حضرت ابوبکر نے فرمایا: كيف تفعل شياً لم يفعله رسول الله صلى الله عليه وسلم شيألم (بخاری کتاب فضائل القرآن باب جمع القرآن) یعنی جو کام رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا وہ آپ کیسے کر سکتے ہیں؟ اسی طرح حضرت زید بن ثابت جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خاص کاتب وحی بھی تھے اور آپ کو حضرت ابو بکر اور حضرت عثمان کے دور خلافت میں جمع قرآن کے سلسلہ میں بنیادی کردار ادا کرنے کی سعادت ملی تھی، جب حضرت ابوبکر نے ایک جلد میں قرآن کریم جمع کرنے کا کام ان کے سپر د کیا تو اس موقعہ پر انہوں نے وہی الفاظ کہے جو حضرت ابو بکر نے ارشاد فرمائے تھے کہ: كيف تفعلون شيأ لم يفعله رسول الله صلى الله عليه وسلم (بخاری کتاب فضائل القرآن باب جمع القرآن) یعنی جو کام رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا وہ آپ لوگ کیسے کر سکتے ہیں؟ پھر انشراح صدر کے بعد پھر فرمایا کہ: ” میں نے مختلف جگہوں اور چیزوں سے قرآن کی آیات جمع کیں جو کھجور کی ٹہنی کے ڈنٹھل 66 اور پتھر کی باریک سلوں اور لوگوں کے سینوں میں محفوظ تھا۔“ (بخاری کتاب فضائل القرآن باب جمع القرآن اور فتح الباری میں حضرت زید رضی اللہ عنہ کی یہ روایت درج ہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی وفات تک مکمل قرآن مجید کسی ایک جگہ جمع نہیں کیا گیا تھا۔(فتح الباری جلد 9 صفحه 12 كتاب فضائل القرآن باب جمع القرآن) مگر صحابہ حضرت زید اور بہت سے دیگر صحابہ کے پاس قرآن کریم مکمل طور پر تحریری صورت میں موجود تھا تو ایسی روایات جن میں یہ ذکر ہے کہ ایک جگہ جمع نہیں تھا اُن میں ایک جگہ جمع کرنے سے یہی مراد ہو سکتی ہے کہ