اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 71 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 71

عہد نبوی میں جمع و تدوین قرآن 71 وحی سے وہ آیت دوبارہ حفظ نہیں کی جاسکتی تھی ؟ اس اعتراض کا مفصل جواب تو گذشتہ صفحات میں درج جمع و تدوین قرآن کی تاریخ ہے۔یہ ذہن میں رہے که دنیوی مال و متاع جو انسان بہت محنت اور مشقت سے کماتا ہے اسے تو خاص حالات میں اپنی جان بچانے کے لیے چھوڑ سکتا ہے۔یا بڑے چاؤ سے تعمیر کرایا ہوا کوئی محل تو ممکن ہے کہ اپنی یا اپنے کسی پیارے کی جان کو مشکل سے نکالنے کے لیے قربان کر دے۔بہت آسانی سے جان کا صدقہ کہہ کر لوگ عمر بھر کی کمائی سے بھی منہ موڑ لیتے ہیں لیکن اگر کسی چیز سے عشق کی حد تک محبت ہو جائے تو پھر اسے بڑی سے بڑی قیمت کے عوض بھی کھونا گوارانہیں ہوتا۔یہاں تک کہ جان کی قربانی بھی دینی پڑے تو انسان آسانی سے اس آزمائش سے گزر جاتا ہے اور صحابہ کی ساری تاریخ گواہ ہے کہ ایک مرتبہ نہیں بلکہ بارہا انہیں موت کی آزمائش سے گزارا گیا مگر ہمیشہ وہ کامیاب کامران ہوئے اور ہمیشہ انہوں نے جان کی قیمت دے کر اس الہی امانت کی حفاظت کی۔حضرت عمرؓ کے قبول اسلام کا واقعہ گزر چکا ہے۔ان کی بہن جنہیں اپنے ایمان کی خاطر تشدد سے کچھ ہی دیر ہوئی تھی اور ابھی زخموں سے خون جاری تھا، یہ کہہ کر اپنے بھائی حضرت عمر کو قرآن کریم کا مسودہ دینے سے انکار کر دیتی ہیں کہ تم اسے چھو نہیں سکتے کیوں کہ تم نا پاک ہو۔ذرا غور کیجیے کہ جس قوم کو قرآن کریم سے اس درجہ والہانہ عشق ہو کہ اُس کی صنف نازک بھی اپنے لہولہو وجود کو قرآن کریم کی حفاظت کے لیے ڈھال بنا لیتی اور جس کو نا پاک سمجھتی اسے چھونے بھی نہیں دیتی ، آنچ آنے دینا تو دور کی بات۔کیا وہ قوم اتنی لا پرواہی کا ثبوت دے سکتی ہے جسکا دھڑ کا ابن وراق کو لگا ہوا ہے؟ پس ایک طرف عشق اور محبت، ساتھ ساتھ انتہائی اعلی اخلاقی اقدار، اور دوسری طرف احتیاط کے تمام دنیاوی تقاضے پورے کرنے کے بعد بھی اور اتنی واضح شہادتوں کے باوجود اگر تحریف ممکن ہے تو پھر دنیا کی کون سی چیز ہے جو اصل سمجھی جائے گی ؟ کون سا ثبوت ہے جس کی ضرورت باقی رہ جاتی ہے؟ اتنی واضح شہادتیں موجود ہیں کہ رسول کریم حفاظت قرآن کا ایسا انتظام فرماتے تھے کہ بشری بھول چوک سے قرآن کریم کا کوئی حصہ ضائع ہونا ناممکن ہے۔ایک یا دو حافظ نہیں تھے کہ بھول گئے اور کسی کو علم ہی نہ ہوا اور کانتین میں سے کسی نے بھی وہ آیت نہ لکھی ہو۔کثرت سے صحابہ نزول کے ساتھ ساتھ قرآن کریم حفظ کرتے جارہے تھے۔اور اس کی باقاعدہ تلاوت کرتے رہتے تھے اور ان کی تعداد سینکڑوں بلکہ ہزاروں تک پہنچ رہی تھی۔پس قرآن کریم کی حفاظت تحریری اور حفظ دونوں طریق سے ہو رہی تھی۔اور دونوں طریق بھی اپنی اپنی جگہ کمال کو پہنچے ہوئے تھے۔اس صورت میں کیسے ممکن ہے کہ کسی وقت کوئی غلطی اتفاق سے متن میں راہ پا جائے اور وہی آیت اتفاق سے سب حفاظ کو بھی بھول جائے۔کوئی ایک غلطی کرتا تو دوسرا اسے یاد دلا دیتا اور یہ روایات بھی گزر چکی ہیں کہ ذرا ذرا سا اختلاف اگر ہو جاتا تو فوراً رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے علم میں بات لائی جاتی۔اتنی واضح اور قطعی شہادت ہے کہ انتہائی درجہ نبی انسان ہی اس سے منہ پھیر سکتا ہے۔یا پھر وہ جو دجل اور مکر میں حد سے گزر گیا ہو۔آخر کس