اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 43 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 43

عہد نبوی میں جمع و تدوین قرآن 43 قرآن شریف تدبر و تفکر وغور سے پڑھنا چاہیے۔حدیث شریف میں آیا ہے رُبَّ قاد يَلْعَنُهُ الْقُرآن یعنی بہت ایسے قرآن کریم کے قاری ہوتے ہیں جن پر قرآن کریم لعنت بھیجتا ہے۔جو شخص قرآن پڑھتا اور اس پر عمل نہیں کرتا اس پر قرآن مجید لعنت بھیجتا ہے۔تلاوت کرتے وقت جب قرآن کریم کی آیت رحمت پر گذر ہو تو وہاں خدا تعالیٰ سے رحمت طلب کی جاوے اور جہاں کسی قوم کے عذاب کا ذکر ہو تو وہاں خدا تعالیٰ کے عذاب سے خدا تعالیٰ کے آگے پناہ کی درخواست کی جاوے اور تدبر و غور سے پڑھنا چاہیے اور اس پر عمل کیا جاوے۔( ملفوظات جلد بحجم صفحہ 157 ) روایات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ آنحضور خود کس انداز میں تلاوت کیا کرتے تھے۔چنانچہ روایت ہے کہ: عَنْ قَتَادَةَ قَالَ سَأَلْتُ أَنَسًا عَنْ قِرَاءَةِ النَّبِيِّ ﷺ فَقَالَ : كَانَ يَمُدُّ مَدًّا۔(سنن ابی داود کتاب الوتر باب استحباب الترتيل في القراءة) حضرت قتادہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت انسؓ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قراءت کے متعلق سوال کیا تو آپ نے فرمایا کہ نبی ﷺہ ٹھہر ٹھہر کر تلاوت کیا کرتے تھے۔عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَقْطَعُ قِرَاءَ تَهُ يَقُولُ: اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ - ثُمَّ يَقِفُ ثُمَّ يَقُولُ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم- ثُمَّ يَقِفُ (رواه الترمذى بحواله مشكاة المصابيح كتاب فضائل القرآن حدیث نمبر ٢٢٠٥) ام المومنین حضرت اُم سلمہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کریم کی تلاوت ٹھہر ٹھہر کر کیا کرتے تھے آپ الحَمدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِین پڑھ کر توقف فرماتے پھر الرَّحْمنِ الرَّحِیمِ پڑھتے اور توقف فرماتے۔عَنْ يَعْلَى بْنِ مَمْلَكٍ أَنَّهُ سَأَلَ أَمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ قِرَاءَةِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَإِذَا هِيَ تَنْعُتُ قِرَاءَةٌ مُفَسِّرَةً حَرْفًا حَرْفًا۔(رواه الترمذى وابو داود والنسائى بحواله مشكاة المصابيح كتاب فضائل القرآن يعلى بِنُ مَمُلِكُ روایت کرتے ہیں کہ میں نے اُم المومنین حضرت اُم سلمہ رضی اللہ عنہا سے آنحضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے قرآن کی تلاوت کے بارہ میں دریافت کیا تو انہوں نے کہا کہ آنحضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی قراءت ، قراءت مفسرہ ہوتی تھی یعنی ایک ایک حرف کے پڑھنے کی سننے والے کو سمجھ آ رہی ہوتی تھی۔عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: زَيْنُوا الْقُرْآنَ بِأَصْوَاتِكُمْ - (سنن ابی داود کتاب الوتر باب استحباب الترتيل في القراءة)