اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 40
40 الذكر المحفوظ و يخلـص الـغـافـلـيـن مـن الـنـعـاس فـعلم كلمته منه لطرد الشيطان المدحور الى يوم النشور ( اعجاز المسیح روحانی خزائن جلد 18 صفحه 81-82) ترجمہ: اے طالب معرفت جان لے کہ جب کوئی شخص سورۃ فاتحہ اور قرآن کریم کی تلاوت کرنے لگے تو اس پر لازم ہے کہ وہ اعوذ باللہ من الشیطان پڑھے جیسا کہ قرآن کریم میں حکم ہے۔کیونکہ کبھی شیطان خدا تعالیٰ کی رکھ میں چوروں کی طرح داخل ہو جاتا ہے اور اس حرم کے اندر آ جاتا ہے جو معصومین کا محافظ ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا کہ وہ سورت فاتحہ اور قرآن مجید کی تلاوت کے وقت اپنے بندوں کو شیطان کے حملہ سے بچائے ، اسے اپنے حربہ سے پسپا کرے، اس کے سر پر تبر رکھے اور غافلوں کو غفلت سے نجات دے۔پس اس نے شیطان کو دھتکارنے کے لیے جو قیامت تک راندہ درگاہ ہے اپنے ہاں سے بندوں کو ایک بات سکھائی۔پھر یہ ادب سکھلایا کہ جب تلاوت کی جارہی ہو تو خاموشی سے سنی جائے۔وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَ اَنْصِتُوا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ (الاعراف: 205) ترجمہ: اور جب قرآن پڑھا جائے تو اسے غور سے سنو اور خاموش رہوتا کہ تم پر رحم کیا جائے۔قرآن کریم کی ان تعلیمات کے مطابق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کوغور سے تلاوت سننے کی بھی بہت تاکید فرماتے تھے۔روایت ہے: اِنَّ الَّذِى يَقْرَأُ الْقُرْآنَ لَهُ أَجْرٌ وَإِنَّ الَّذِي يَسْتَمِعُ لَهُ أَجْرَانِ (الدارمي ؛ فضائل القرآن؛ فضل من استمع الى القرآن) جو قرآن کریم کی تلاوت کرتا ہے اس کے لیے ایک اجر ہے اور جو غور سے سُنتا ہے اس کے 66 لیے دہرا اجر ہے آداب تلاوت کے ضمن میں یہاں تک راہنمائی فرمائی کہ ایسے مبارک اوقات بھی بتا دیے کہ دن اور رات کی کن گھڑیوں میں تلاوت قرآن کریم اللہ تعالیٰ کے حضور زیادہ پسندیدہ ہے۔ان میں سے ایک وقت فجر کا ہے جب کہ انسانی ذہن مکمل طور پر پرسکون ، تازہ دم اور ہشاش بشاش ہوتا ہے۔چنانچہ فرمایا: أقِمِ الصَّلوة لِدُلُوكِ الشَّمْسِ إِلى غَسَقِ الَّيْلِ وَ قُرْآنَ الْفَجْرِ طَ إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُودًا(بني السرائيل:79) ترجمہ: سورج کے ڈھلنے سے شروع ہو کر رات کے چھا جانے تک نماز کو قائم کر اور فجر کی تلاوت کو اہمیت دے۔یقیناً فجر کو قرآن پڑھنا ایسا ہے کہ اُس کی گواہی دی جاتی ہے۔