اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 26 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 26

الذكر المحفوظ 26 تھیں (بخاری کتاب فضائل القرآن باب تعليم الصبيان القرآن )۔حضرت عائشہ نے قرآن کریم کا ایک نسخہ جمع کیا ہوا تھا (بخاری فضائل القرآن باب تاليف القرآن ) کتاب المصاحف میں دیگر امہات المؤمنین کے صحائف کا بھی ذکر ہے۔مشہور شیعہ تفسیر مجمع البیان میں علامہ طبرسی حفاظت قرآن کا ذکر کرتے ہوئے اپنا عقیدہ بیان کرتے ہیں کہ قرآن کریم بعینہ محفوظ ہے جیسا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں تھا اور وہی تحریر ایک تو اتر کے ساتھ ہم تک پہنچی ہے اور اپنی تائید میں ایک حوالہ دیتے ہوئے لکھتے ہیں: و كذالك القول في كتاب الـمـزنـي۔۔۔۔۔ان القرآن كان على عهد رسول الله (ص) مجموعا مؤلفا على ما هو عليه الان (ابوالفضل بن الحسن الطبرسي: مجمع البيان الجزء الاول: الفن الخامس صفحه 15 الناشر مكتبه علميه الاسلاميه (ملتان) یعنی یہی بات علامہ مزنی بھی اپنی کتاب میں لکھتے ہیں۔۔۔کہ قرآن رسول کریم کے دور میں ہی جمع ہو گیا تھا اور اسی طرح تالیف ہو گیا تھا جیسا کہ آج کے دور میں ہے۔نامی گرامی مستشرق بھی کھلے دل سے یہ اعتراف کرتے ہیں کہ قرآن کریم رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی نگرانی میں ہی مکمل طور پر تحریری صورت میں محفوظ کر لیا گیا تھا۔آج تک یہ غیر مبدل اور غیر محرف ہے اور محفوظ حالت میں ہم تک پہنچا ہے اور بالفاظ میور ” ہمارے پاس ہر ایک قسم کی ضمانت موجود ہے، اندرونی شہادت کی بھی اور بیرونی کی بھی کہ یہ کتاب جو ہمارے پاس ہے، وہی ہے جو خود محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دنیا کے سامنے پیش کی تھی اور اسے استعمال کیا کرتے تھے۔“ اسلامی تاریخ کا مطالعہ کرنے والے محققین ہر دور میں یہ گواہیاں دیتے چلے آئے ہیں۔جن کا ذکر اپنے مقام پر قاری کو ملے گا۔آج حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے دور کا تحریر کردہ کوئی بھی مکمل نسخہ قرآن موجود نہیں ہے۔اس کی بنیادی وجہ حضرت عثمان کا حفاظت قرآن کے حوالہ سے کیا گیا ایک اہم فیصلہ ہے۔آپ نے اپنے دور میں تمام سابقہ نسخوں کو تلف کر کے اجماع امت سے جمع کیے ہوئے قرآن پر امت کو اکٹھا کر دیا تھا۔اب ذرا غور کیجیے کہ ابن وراق کا یہ کہنا کہ محمد (ﷺ) کی وفات 632ء کے بعد آپ کی وحی کا کوئی مجموعہ موجود نہیں تھا۔کتنا بڑا جھوٹ ہے۔تاریخ مذاہب میں قرآن کریم ہی وہ واحد اور اکلوتی کتاب ہے کہ جس کے بارہ میں ثابت ہے کہ جس نبی پر نازل ہوئی، اسی نبی کی موجودگی میں، اسی نبی کی نگرانی میں، حفاظت کے تمام تر تقاضے پورے کرتے ہوئے تحریر اور حفظ کے ذریعہ محفوظ کی گئی اور کثرت سے اس کی اشاعت بھی کی گئی۔سوال یہ ہے کہ جب بنیاد ہی جھوٹی ہے تو پھر اس کے سہارے قرآن کریم کے غیر محفوظ ثابت کرنے کی جو