اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 391 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 391

قرآن کریم کی معنوی محافظت 391 کیے جائیں جو قرآن کریم کی دوسری آیات کے خلاف ہوں تو وہ معنی غلط ہوں گے۔اگر تفسیر قرآن کے لیے آنحضور کے بیان فرمودہ اس بنیادی اصول کو تسلیم نہ کیا جائے اور نسخ فی القرآن کا عقیدہ تسلیم کر لیا جائے تو قرآن کریم کا وجود ہی بیکار ہو جاتا ہے اور امن اُٹھ جاتا ہے۔ہر شخص اپنی مرضی سے معنے کرے گا۔مثلاً اگر نسخ کا قائل دین میں جبر کا قائل ہوگا تو پھر تو ایک آفت آجائے گی۔ایسا شخص قرآن کریم سے وہ تمام آیات منسوخ قرار دیدے گا جن میں یہ ذکر ہے کہ اپنے لیے مذہب کا انتخاب کرنا انسان کا ایسا ذاتی فعل ہے جس کا تعلق خدا تعالیٰ سے ہے۔دلائل کی روسے بچے دین کی تلاش تو ہو سکتی ہے لیکن کوئی شخص جبراً کسی دوسرے شخص کو اپنے دین میں نہیں داخل کر سکتا اور نہ ہی کسی دین سے نکال سکتا ہے۔چنانچہ ایسا شخص اگر طاقتور ہو تو ظلم اور تعدی کی راہ سے دُنیا کا امن برباد کر دے گا اور صرف اُن لوگوں کو زندہ رہنے کا حق دے گا جو اس کے دین کے مطابق اپنا دین بنائیں گے۔ایک بات یہ بھی مد نظر رہے کہ موجودہ قرآن کریم پر صحابہ کا دومرتبہ اجماع ہوا تھا۔ایک دفعہ حضرت ابوبکر کے دور میں اور ایک مرتبہ حضرت عثمان کے دور میں۔پس جب صحابہ کا سارے قرآن کریم پر اتفاق ہے تو کوئی آیت کسی ایک صحابی کے کہنے پر منسوخ قرار نہیں دی جا سکتی۔ایک طرف تو تمام صحابہ اس آیت کو قرآن کریم کا حصہ قرار دیتے ہیں اور دوسری طرف ایک صحابی کسی آیت کو منسوخ مانتا ہے تو ہزاروں صحابہ کے اجماع کے خلاف اُس ایک صحابی کی رائے کی کیا وقعت ہو سکتی ہے؟ اگر تمام صحابہ نے بالاتفاق یہ شہادت دی ہو کہ یہ آیت قرآن کریم میں شامل ہے اور پھر اسی اتفاق کے ساتھ بیان نہ کیا ہو کہ یہ آیت منسوخ ہے تو محض ایک یا دو صحابہ کے کہنے پر ہم کسی آیت کو منسوخ قرار نہیں دے سکتے۔ایک آیت کے قرآن کریم کا حصہ ہونے پر جس قسم کی شہادت مہیا ہے اسی قسم کی شہادت اگر اس کے منسوخ ہونے پر ہو تو ہی قابل توجہ ہو سکتی ہے۔مگر یہ حقیقت بھی ظاہر وباہر ہے کہ تمام صحابہ کسی آیت کے منسوخ ہونے پر متفق نہیں۔بلکہ کسی آیت کے منسوخ ہونے پر صحابہ کی کوئی چھوٹی سی جماعت بھی متفق نظر نہیں آتی جو پانچ یا چھ افراد پر ہی مشتمل ہو۔پس اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ اُن کی ذاتی رائے تھی اور اس رائے کا مطلب وہی تھا جو امام الزماں علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ وہ اپنے معنی کو منسوخ قرار دیتے تھے آیت کو نہیں۔جہاں تک اُن آیات کا تعلق ہے جن کے بارہ میں کہا جاتا ہے کہ قرآن کریم سے منسوخ کر دی گئی ہیں مگر الفاظ پیش نہیں کرتے اس لیے ایساد عومی قابل اعتبار نہیں رہتا۔پھر قائلین نسخ کے نزدیک کچھ ایسی آیات ہیں کہ جن کے معنی تو قائم ہیں مگر الفاظ منسوخ ہیں۔یہ تو بات ہی بے وقوفی والی ہے۔الفاظ منسوخ کرنے کی کیا تک اور حکمت ہے۔یہ بے حکمت اور فضول کام خدا کی طرف منسوب نہیں کی جاسکتا۔