اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 19
عہد نبوی میں جمع و تدوین قرآن 19 ان سب واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ ابتدائی زمانہ سے ہی قرآن کریم تحریری صورت میں محفوظ کیا جاتا رہا تھا اور جہاں جہاں مسلمان موجود ہوتے وہاں وہاں علاوہ درس و تدریس کے وحی الہی کی تحریری صورت میں اشاعت ہوتی تھی۔اس بات کے دلائل تو بہت ہیں کہ بعد کے زمانہ میں جب کہ اسلام کمزوری کی حالت سے نکلا تو اس وقت قرآن کریم کے بہت سے نسخہ جات موجود تھے۔نیز یہ کہ کتابت قرآن کا یہ کام رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے زیر نگرانی ہوتا تھا۔ذیل میں چند روایات بطور نمونہ درج کی جاتی ہیں۔۔۔۔لما نزلت لَا يَسْتَوِى الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ غَيْرَ أُولِى الضَّرَرِ وَ الْمُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ الله قال النبي صلى الله عليه و سلم ادع الى زيد او ليجئ باللوح و القلم والكتف او الكتف والدواة ثم قال اكتب لا يستوى۔۔۔۔۔(بخاری کتاب التفسير باب قوله تعالى لايستوى القاعدون) یعنی جب آیت لَا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ غَيْرَ أُولِى الضَّرَرِ وَ الْمُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللهِ “ ( النساء : 96) نازل ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے زید کو بلا بھیجا اور وہ لوح اور قلم اور (اونٹ کے) شانہ کی ہڈی کے ساتھ یا راوی کا خیال ہے کہ شانہ کی ہڑی یا دوات کے ساتھ تشریف لائے تو آپ نے فرمایا لکھو لَا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ غَيْرَ أُولِى الضَّرَرِ وَ الْمُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا واضح ارشاد موجود ہے کہ فلا يـمـــس الـقـرآن انسان الا و هو 66 طاھر یعنی پاک آدمی کے سوا قر آن کو کوئی بھی نہ چھوئے۔اسی طرح روایت ملتی ہے کہ: عن عبد الله بن عمر قال نهى رسول الله ﷺ ان يسافر بالقرآن الى ارض العدو (مسلم كتاب الامارة باب النهى ان يسافر بالفصحف الى ارض الكفار۔۔۔۔) حضرت عبد اللہ بن عمر فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ اپنے ساتھ نسخہ قرآن لے کر دشمن کی سرزمین میں سفر کیا جائے۔اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کو اس بات کا شوق تھا کہ سفر و حضر میں ان کے پاس خدا کا کلام لکھا ہوا موجود ہو جسے وہ پڑھتے رہیں اور ہر وقت حتی کہ حالت جنگ میں بھی نسخہ قرآن اپنے ساتھ رکھنا چاہتے تھے۔کتابت قرآن کا مزید ثبوت کا تب وحی حضرت زید بن ثابت کی اس روایت سے ملتا ہے۔آپ فرماتے ہیں: عن زيد بن ثابت قال كنا عند النبي ﷺ نؤلف القرآن من الرقاع (ترمزی کتاب المناقب عن رسول الله باب في فضل الشام و اليمن) (الاتقان: الجزء الاول ؛ النوع الثامن عشر ؛ جمع القرآن و ترتيبه ، صفحه:58) (تفسير روح المعانى جزء اول صفحه 21 مكتبه امدادیه ملتان)