اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 331
حفاظت قرآن کریم بر متفرق اعتراضات 331 یہ کہا کہ میں تمہیں اس کی تعبیر بتاؤں گا پس مجھے (یوسف کی طرف) بھیج دو۔۴۷۔یوسف اے راستباز ! ہمیں سات موٹی گائیوں کا جنہیں سات دُبلی گائیں کھا رہی ہوں اور سات سبز و شاداب بالیوں اور دوسری سوکھی ہوئی بالیوں کے بارہ میں مسئلہ سمجھا تا کہ میں لوگوں کی طرف واپس جاؤں شاید کہ وہ (اس کی تعبیر ) معلوم کر لیں۔۴۸۔اس نے کہا کہ تم مسلسل سات سال تک کاشت کرو گے۔پس جو تم کا ٹوا سے اس کی بالیوں میں رہنے دوسوائے تھوڑی مقدار کے جو تم اس میں سے کھاؤ گے۔۴۹۔پھر اس کے بعد سات بہت سخت (سال ) آئیں گے جو وہ کھا جائیں گے جو تم نے ان کے لیے آگے بھیجا ہو گا سوائے اس میں سے تھوڑے سے حصہ کے جو تم (آئندہ کاشت کے لئے ) سنبھال رکھو گے۔۵۰۔پھر اس کے بعد ایک سال آئے گا جس میں لوگ خوب سیراب کئے جائیں گے اور اس میں وہ رس نچوڑیں گے۔۵۱۔بادشاہ نے کہا اسے میرے پاس لاؤ۔پس جب ایلچی اس (یعنی یوسف) کے پاس پہنچا تو اس نے کہا اپنے آقا کی طرف لوٹ جاؤ اور اس سے پوچھو ان عورتوں کا کیا قصہ ہے جو اپنے ہاتھ کاٹ بیٹھی تھیں۔یقیناً میرا رب ان کی چال کو خوب جانتا ہے۔۵۲۔اس (بادشاہ) نے پوچھا (اے عورتو!) بتاؤ تمہارا کیا معاملہ تھا جب تم نے یوسف کو اس کے نفس کے بارہ میں پھسلانا چاہا تھا۔انہوں نے کہا پاک ہے اللہ۔ہمیں تو اس کے خلاف کسی بُرائی کا علم نہیں۔سردار کی بیوی نے کہا اب سچائی ظاہر ہو چکی ہے۔میں نے ہی اسے اس کے نفس کے بارہ میں پھسلانا چاہا تھا اور یقینا وہ صادقوں میں سے ہے۔۵۳۔یہ اس لیے ہوا تا کہ وہ (عزیز مصر ) جان لے کہ میں (یعنی یوسف) نے اس کی عدم موجودگی میں اس کی کوئی خیانت نہیں کی اور یقیناً اللہ خیانت کرنے والوں کی چال کو سرے نہیں چڑھاتا۔ترجمہ از حضرت مرزا طاہر احمد صاحب خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ ) جس پر ابن وراق کو اعتراض پیدا ہوا ہے اس بیان میں تو حضرت یوسف کی پاکیزگی، تقولی صحت نیت، خدا پر ایمان ، اور شیطان کے حملوں سے بچنے کے لیے خدا تعالیٰ کی پناہ کی ضرورت کا بیان ہے۔اللہ تعالیٰ یہ مضمون بیان فرمارہا ہے کہ اگر تقویٰ اور حسن نیت ہو اور دل میں بدی کا ارادہ نہ ہوتو بھی انسان بدی سے اپنے طور پر نہیں بچ سکتا۔ہاں اگر انسان یہ تمام شرائط پوری کرے تو پھر شیطان کے حملوں سے بچنے کے لیے خدا تعالیٰ مددنازل کرتا ہے اور ساتھ ہی یہ تعلیم بھی دے دی کہ اے بنی نوع اپنے نفس کی پاکیزگی نیت کی صفائی اور تقویٰ میں ترقی کرتے ہوئے خدا تعالیٰ سے بدیوں سے بچنے کے لیے مدد طلب کرو اور اس بارہ میں بھی راہنمائی کر دی کہ انسان کو خدا کی خاطر ابتلاء بھی برداشت کرنے پڑتے ہیں اور بد دیانت لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو جھوٹ اور دجل کی راہ سے خدا کے