اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 18
الذكر المحفوظ 18 کتابت وحی کا ایک زبر دست تاریخی ثبوت جو تاریخ اسلام کا ایک اہم ورق بھی ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے قبول اسلام کا ایمان افروز واقعہ ہے۔جب آپ آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو ( نعوذ باللہ ) قتل کرنے کے ارادہ سے گھر سے نکلے اور راستہ میں معلوم ہوا کہ خود اپنی بہن اور بہنوئی ایمان لا چکے ہیں تو غصہ میں ان کے گھر کی طرف چلے گئے۔وہاں آپ کے بہنوئی حضرت خباب بن الارت قرآن مجید کی تلاوت کر رہے تھے۔آہٹ پاکر حضرت عمر کی بہن فاطمہ نے خباب رضی اللہ عنہ کو اور ان اوراق کو جن پر قرآن لکھا ہوا تھا چھپا دیا۔پھر بعد میں حضرت عمر نے ان سے وہ اور اق لے کر پڑھے۔یہ واقعہ سنہ 5 یا 6 نبوی کا ہے۔(شرح القسطلانی الجزء الاول صفحہ 272) اور اس بات کا بہت بڑا ثبوت ہے کہ قرآن کریم ابتدائی زمانہ سے جبکہ اسلام اپنی کمزور حالت میں تھا لکھا جاتا تھا۔اس مشہور روایت میں واضح طور پر اس بات کا ذکر ہے کہ اس ابتدائی زمانہ میں صحابہ کے پاس تحریری شکل میں قرآن کریم موجود تھا۔پھر حضرت رافع بن مالک ایک انصاری صحابی کو آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بیعت عقبہ اولیٰ کے وقت سورۃ یوسف کا مسودہ مدینہ کے مسلمانوں کے لیے عطا فرمایا تھا۔بعد میں بھی حضرت رافع کچھ عرصہ کے لیے رسول کریم کی خدمت میں رہے۔اس اثناء میں سورۃ طہ نازل ہوئی اور اس کا مسودہ بھی ساتھ لے کر مدینہ منورہ گئے۔(اسد الغابہ زیر حالات حضرت رافع بن مالک بن عجلان ) پھر ہجرت کا مشہور واقعہ اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کریم کی وحی کے ممکنہ نزول کے پیش نظر سفر و حضر میں بھی سامان تحریر اپنے پاس رکھا کرتے تھے۔ہجرت جیسے موقع پر جبکہ جان کو خطرہ تھا اور دشمنوں کے نرغے سے نکل کر مدینہ پہنچنا بظاہر ناممکن دکھائی دیتا تھا، آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم سامان تحریر ساتھ لے کر چلے۔چنانچہ جب سراقہ بن مالک تعاقب کرتا ہوا آپ کے قریب آ پہنچا اور الہی تائید آپ کے شامل حال دیکھ کر آپ سے امان کا طالب ہوا اور درخواست کی : ان يكتب لي كتاب امن فامر عامر بن فہیرہ فكتب في رقعة من (بخاری کتاب المناقب باب هجرة النبي و اصحابه الى المدينة) ادیم کہ مجھے پروانہ امن دے دیا جائے۔اس پر آپ نے عامر بن فہیرہ کو حکم دیا اور انہوں نے چمڑے کے ایک ورق پر مجھے پروانہ امن لکھ دیا پس سراقہ بن مالک کی درخواست پر یکا یک اس صحرائے لق و دق میں سامان تحریر مہیا ہو جانا اس بات کا کس قدر واضح اور بڑا ثبوت ہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم خطر ناک سے خطرناک حالات میں بھی وحی الہی کی کتابت کے خیال سے غافل نہ ہوتے تھے۔اس واقعہ سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ مخالفین میں بھی یہ بات مشہور و معروف تھی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سامان تحریر اپنے پاس رکھتے ہیں تبھی تو سراقہ نے درخواست کی۔