اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 264
الذكر المحفوظ 264 اس حکم لا تكتبوا عنی سوی القرآن کی نافرمانی سمجھتے تھے تبھی تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لے رہے تھے کہ اس بات کی مجھے تحریر دے دی جائے۔ورنہ رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے قرآن کریم کا کوئی بھی حصہ لکھنے سے تو کبھی منع نہیں فرمایا اور نہ ایسا کرنے والے کے خلاف کراہت کا اظہار فرمایا۔مختصر یہ کہ حضرت عمر کا اجازت لینا، رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ناپسندیدگی اور کاتب وحی کے ساتھ ہی موجود ہونے کے باوجود انہیں نہ لکھوانا اس بات پر شاہد ناطق ہے کہ یہ حکم قرآن کریم کی آیت نہیں بلکہ معاشرتی اور انتظامی امور کے لیے ایک عمومی حکم دیا گیا ہے اور حضرت عمر بھی ما لیس منہ کے الفاظ سے یہ واضح فرمارہے ہیں کہ اُن کے نزدیک بھی یہ قرآن کریم کا حصہ نہیں ہے۔یہ بھی یادر ہے کہ حضرت عمرؓ تو حضرت ابو بکڑ کے عہد خلافت میں ہونے والی تدوین قرآن میں اہم اور کلیدی کردار ادا کر رہے تھے۔اگر کوئی ایسی آیت تھی تو اس آیت پر تو آپ اور حضرت عائشہ دو گواہ موجود تھے۔چنانچہ اگر آپ واقعی رجم کے حکم کو وحی قرآن کا حصہ سمجھتے تھے تو ضرور اسے قرآن کریم میں درج فرماتے۔مگر ایسا نہ کرنا ثابت کر دیتا ہے کہ آپ اسے اس لحاظ سے الہی راہنمائی سمجھتے تھے کہ تو رات میں اس کا ذکر تھا اور آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بطور نگران اعلیٰ یا ایک ریاست کے حاکم ہونے کے حیثیت سے اسے معاشرہ پر لا گو بھی کیا تھا۔لیکن یہ امر بھی واضح ہے کہ قرآن کریم ایک کامل تعلیم ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات تک اس میں رجم کے بارہ میں کسی تعلیم کا نازل نہ ہونا یہ ثابت کرتا ہے کہ قرآن کریم کی آفاقی اور عالمی تعلیم میں اس حکم کی گنجائش نہیں تھی اور یہ روایات بھی ملتی ہیں کہ حضرت عمر پڑھنا لکھنا جانتے تھے اور تورات کا بھی مطالعہ کرتے رہتے تھے۔(مشکواۃ کتاب الاعتصام بالكتاب و السنة) اگر واقعی آپ ان احکام کو قرآنی وحی کا حصہ سمجھتے تھے تو یہ ایک غلطی تھی۔(تفسیر کبیر جلد 6 صفحہ 251 کالم 2 زیرتفسیر آیت سورۃ النور :1 تا3) دوسری یہ صورت بھی ہو سکتی ہے کہ اُس دور میں ریاست کے نگران اعلیٰ کی طرف سے لاگو کی گئی ایک سزا کو حضرت عمر کی طبیعت نے اصلاح معاشرہ کے لیے بہت سراہا اور اسے لمبے عرصہ تک جاری رکھنے کی کوشش کی تاکہ معاشرہ سے زنا کی لعنت کو ختم کیا جاسکے۔یہ بھی ایک معروف حقیقت ہے کہ حضرت عمر کی طبیعت میں ایک قسم جلال پایا جاتا تھا۔آپ اس خوبصورت معاشرہ کے فرد تھے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بے انتہا قربانیوں اور بہت سی مشقتوں کے بعد پروان چڑھایا تھا۔اس میں ادنی سی دراڑ یا بدصورتی کی کوشش کو آپ کس طرح برداشت کر سکتے تھے؟ بہر حال رجم کے حق میں آپ کی طبیعت کے میلان کی جو بھی وجہ ہو، یہ بات بھی تاریخ سے بالکل واضح ہے کہ آپ بہر حال رجم کے احکام کو قر آنی تعلیم سے باہر ہی سمجھتے تھے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے اسوہ کا مطالعہ کرتے وقت یہ مد نظر رکھنا ضروری ہے کہ مدینہ کے دور میں آپ نہ صرف ایک رسول تھے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ ایک حاکم اور ایک عالمی قاضی کی حیثیت سے بھی دُنیا