اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 256
الذكر المحفوظ 256 آیت رجم کتب تاریخ میں ایسی روایات ملتی ہیں کہ ایک ایسی آیت تھی جس میں یہ حکم تھا کہ اگر بوڑھا اور بڑھیا زنا کریں تو انہیں رجم کر دیا جائے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے بھی یہ بات ثابت ہے کہ آپ نے زنا کی پاداش میں رجم کی سزادی لیکن پھر یہ آیت لفظاً منسوخ ہوگئی اور قرآن کریم میں درج نہ کی گئی مگر معنوی طور پر منسوخ نہیں ہے۔چنانچہ خلفاء راشدین نے بھی یہ سزا لا گور کھی۔یہ روایات زیادہ تر حضرت عمرؓ کے حوالہ سے ملتی ہیں کہ آپ آیت رجم کو قرآن کریم میں درج کروانا چاہتے تھے مگر ایسا نہ کر سکے۔چنانچہ بخاری کی روایت ہے: عن ابن عباس قال قال عمر لقد خشيت ان يطول بالناس زمان حتى يقول قائل لا نجد الرجم في كتاب الله فيضلو بترك فريضة انزلها الله (بخاری کتاب الحدودباب اعتراف بالزنا) یعنی حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ مجھے ڈر ہے کہ مرورِ زمانہ کے ساتھ لوگ یہ کہنا شروع کر دیں گے کہ ہم رجم کے احکام قرآن کریم میں نہیں پاتے اور وہ اسے ترک کر دیں گے حالانکہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ ایک فریضہ ہے۔مستشرقین حفاظت قرآن پر اعتراض کرنے کی غرض سے آیت رجم کے بارہ میں روایات کو بڑی شدومد کے ساتھ اچھالتے ہیں۔چنانچہ ابن وراق اس معاملہ میں بھی اعتراض کا موقع ہاتھ نہیں جانے دیتا۔کہتا ہے: There is a tradition from Aisha the Prophet`s wife, that there once existed a 'verse of stoning' where stoning was prescribed as punishment for fornication, a verse that formed a part of the Koran but that is now lost۔The early caliphs carried out such a punishment for adulterers, despite the fact that the Koran as we know it today, only prescribes a hundred lashes۔It remains a why Islamic law to if the story is not true puzzle this day decrees stoning when the Koran only demands flogging۔According to this tradition over a hundred verses are missing۔(Ibn Warraq: Why I am Not A Muslim, The Koran: Pg 108-109) آنحضور ( ﷺ) کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہؓ سے مروی ہے کہ کبھی ایک آیت رجم بھی ہوا کرتی تھی جس میں زنا کی سزا رجم یعنی سنگساری مقرر تھی ، ایک آیت جو قرآن کا حصہ تھی لیکن اب گم ہو چکی ہے۔ابتدائی خلفاء نے زنا کاروں کے لیے اس قسم کی سزائیں تجویز کی تھیں،