اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 239 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 239

قرآن کریم میں تحریف کے الزامات کے جواب 239 چهارم: یہ مشکل کام بجز خدا تعالیٰ کی توفیق کے نہیں ہوگا پس توفیق حاصل کرنے کے لیے استغفار کی تعلیم دی اور عملی رنگ میں ڈھلنے کے لیے رسول کریم کی صحیح عملی پیروی کرنے کے لیے تو بہ کی تعلیم دی۔پنجم: پس اپنی اپنی استعدادوں کے مطابق اس تعلیم پر عمل پیرا ہونے والے ایک خاص وقت کے بعد انعام واکرام کے وارث ہوں گے اور اُن میں وہ لوگ بھی ہوں گے جو کامل پیروی اور اطاعت کرنے کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کامل ظل ہو نگے۔ششم: جو اس تعلیم پر عمل پیرا نہ ہوں گے وہ ایک خاص وقت تک مہلت پانے کے بعد عذاب الہی کا مورد ہوں گے۔ان مضامین کے اسلوب بیان کے بارہ میں رہنمائی فرماتے ہوئے حضرت مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام فرماتے ہیں: سمجھنا چاہیے کہ قرآن شریف کی بلاغت ایک پاک اور مقدس بلاغت ہے۔جس کا مقصد اعلیٰ یہ ہے کہ حکمت اور راستی کی روشنی کو فصیح کلام میں بیان کر کے تمام حقائق اور دقائق علم دین ایک موجز اور مدلل عبارت میں بھر دیئے جائیں۔اور جہاں تفصیل کی اشد ضرورت ہو وہاں تفصیل ہو اور جہاں اجمال کافی ہو وہاں اجمال ہو اور کوئی صداقت دینی ایسی نہ ہو جس کا مفصلا یا مجملاً ذکر نہ کیا جائے اور باوصف اسکے ضرورت حقہ کے تقاضا سے ذکر ہو نہ غیر ضروری طور پر اور پھر کلام بھی ایسا فصیح اور سلیس اور متین ہو کہ جس سے بہتر بنانا ہرگز کسی کیلئے ممکن نہ ہواور پھر وہ کلام روحانی برکات بھی اپنے ہمراہ رکھتا ہو۔یہی قرآن شریف کا دعوی ہے جس کو اس نے آپ ثابت کر دیا ہے اور جابجا فرما بھی دیا ہے کہ کسی مخلوق کیلئے ممکن نہیں کہ اسکی نظیر بنا سکے۔( براہین احمدیہ چہار صص روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 477-476 حاشیہ نمبر 3) پس کلام الہی میں گہرے علمی اور فلسفیانہ دلائل کے بیان کا مقصد کیونکہ مناظرہ یا مباحثہ نہیں بلکہ درس و تدریس اور تعلیم و تربیت ہے اور درس میں انداز بیان کتابی نہیں ہوتا بلکہ مدرس مضامین کی ترتیب کے بیان میں وہ انداز اختیار کرتا ہے جس سے مضمون سامعین کے ذہن نشین بھی ہو جائے اور دلوں کو بھی تقویت دے۔چنانچہ مدرس ایک مضمون بیان کرتے ہوئے اس سے متعلقہ مضامین بیان کرتا ہے اور پھر مضمون واضح کرنے کے لیے اسے مختلف انداز اور پیرائے میں دہرا کر بیان کرتا ہے اور راسخ کرنے کے لیے دلائل کے ساتھ ساتھ عبرت انگیز واقعات اور خوبصورت محاوروں سے مضمون کو سجاتا ہے اور کوشش کرتا ہے کہ اس کا مضمون ہر طبیعت کے آدمی کی دلچپسی کا باعث ہو اور ہر فطرت کا انسان اس سے فائدہ اُٹھائے۔پھر تاریخی اور فطری دلائل کو اس طرح پیش کرتا ہے کہ کہ درس کے