اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 236
الذكر المحفوظ 236 قرآن کریم کی معنوی ترتیب اور اس کا دستور بیان تمام مذاہب کے قیام کا بنیادی مقصد دراصل تقویٰ پیدا کرنا ہے۔اسلام بھی اسی مقصد کی خاطر آیا اور اس وقت آیا جب کہ تمام مذاہب مختلف وجوہات سے اس مقصد کو حاصل کرنے میں نا کام ہو چکے تھے۔حضرت مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام فرماتے ہیں: پھر دیکھو کہ تقویٰ ایسی اعلیٰ درجہ کی ضروری شے قرار دیا گیا ہے کہ قرآن کریم کی علت غائی اسی کو ٹھہرایا ہے چنانچہ دوسری سورۃ کو جب شروع کیا ہے تو یوں ہی فرمایا ہے: الم ذلک الْكِتَابُ لَا رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ (البقره: 3-2 ) ( ملفوظات جلد اول صفحه 282) اور تقویٰ پیدا کرنے کے لیے سب سے بنیادی امر عبادت الہی ہے۔چنانچہ قرآن کریم کا پہلا حکم جو امر کے صیغہ میں آتا ہے وہ یہ ہے کہ تقویٰ کے قیام کے خاطر خدا تعالیٰ کی عبادت کرو۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: يَايُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوا رَبَّكُمُ الَّذِى خَلَقَكُمْ وَالَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تتقون (البقرة : 22) ترجمہ: اے لوگو! تم عبادت کرو اپنے رب کی جس نے تمہیں پیدا کیا اور ان کو بھی جو تم سے پہلے تھے تا کہ تم تقویٰ اختیار کرو۔پس اس آیت میں قرآن کریم ایسی عبادت الہی کو انسانی پیدائش کا مقصود بیان کرتا ہے جس عبادت سے تقویٰ ( ملفوظات جلد اول صفحہ 246,347) پیدا ہو۔حضرت مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام فرماتے ہیں: اس قدر تفاصیل جو ( قرآن مجید میں ) بیان کی جاتی ہیں ان کا خلاصہ اور مغز کیا ہے ؟ الا تَعْبُدُوا إِلَّا الله [هود : 2] خدا تعالیٰ کے سوا ہر گز ہر گز کسی کی پرستش نہ کرو۔اصل بات یہ ہے کہ انسان کی پیدائش کی علت غائی یہی عبادت ہے جیسے دوسری جگہ فرمایا ہے وَ مَا خَلَقْتُ الجنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونَ [الذاريت : 57] اور عبادت الہی اور تقویٰ کا قیام کامل توحید کے قیام کے بغیر ناممکن ہے اس لیے توحید الہی کا قیام بھی قرآن کریم کے نزول کی علت غائی ٹھہرا۔حضرت مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام فرماتے ہیں: تمام احکام ایک ہی مرکز کے گرد گھوم رہے ہیں یعنی علمی اور عملی رنگ میں اور درشتی اور نرمی کے پیرایہ میں خدا کی توحید پر قائم کرنا اور ہوا و ہوس چھوڑ کر خدا کی توحید کی طرف کھینچنا یہی قرآن کا مدعا ہے۔چشمه معرفت: روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 198 )