اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 166 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 166

الذكر المحفوظ 166 اور خون سے وہ آگ بجھتی۔ان کے حالات کے باوجود جب اسلام کو ترقی ہوئی اور فتوحات کا دروازہ کھلا تو اس بات پر رویا کرتے تھے کہ خدانخواستہ ہماری تکالیف کا بدلہ کہیں اس دنیا میں ہی تو نہیں مل گیا۔(اسد الغابہ زیر حالات حضرت خباب بن الارت) پس اس نظر سے بھی دیکھیں کہ مسلمان جو قرآن کریم کو الہی کلام سمجھ کر اس کی خاطر ہر قسم کی قربانیاں دے رہے تھے، اگر اس میں ذرہ سا بھی رد و بدل ہوتا یا رد و بدل کا ادنی سا شک بھی ہوتا تو وہ ساتھ چھوڑ دیتے۔بلکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے جانی دشمن ہو جاتے کہ جس کی خاطر بظاہر اپنی دنیا بر باد کر لی، ہر ظلم برداشت کیا، پیاروں کی جدائی قبول کر لی ، بھائی نے بہن کو چھوڑا ، خاوند بیوی سے الگ ہوا ، ماؤں کے بڑھاپے کے سہارے ان کی آنکھوں کے سامنے مارے گئے، اپنے پیارے انتہائی کسمپرسی کی حالت میں مبتلا ہوئے جائدادیں تباہ ہوگئیں اور عمروں کے اثاثے ہاتھوں سے نکل گئے ، وہ سب فراڈ تھا!!! وہ جس پر جانیں نچھاور کر رہے تھے صرف دھو کہ تھا !!! قرآن کریم کے معاملہ میں ادنیٰ سے اختلاف پر تو وہ بھڑک اُٹھتے تو رڈو بدل کی کسی کوشش یا سازش پر کیوں کرسب کے سب خاموش رہ سکتے تھے؟ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے صحابہ کا آپ پر اور آپ پر نازل ہونے والے کلام پر غیر متزل ایمان، محبت، عشق اور ان کی فدایت گواہ ہے کہ وہ تمام تر اس یقین اور ایمان سے گندھے ہوئے تھے کہ قرآن کریم ایک الہی تعلیم ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم اس کے معتبر ترین محافظ ہیں۔صرف یہی نہیں مکی زندگی کے بہیمانہ ظلم وستم سے بھرے ہوئے تیرہ سالوں کے وہ پتے دن اور تاریک راتیں گواہ ہیں۔مدنی دور کی بے چین راتیں اور ہیبت ناک ابتلا شاہد ہیں کہ آنحضور اور آپ کے صحابہ سکتی زندگی کے ان شب روز میں بھی اس الہی امانت کی تن دہی سے حفاظت کرتے رہے۔اگر کوئی تحریف کرنا ہی تھی تو مشکلات کے اس دور میں اپنی اور اپنے جانثاروں کی حالت زار دیکھ کر نہ کر لیتے ؟ خاص کر جبکہ مخالفین کی طرف سے یہ کھلا پیغام تھا کہ یہ ظلم ستم بھی ختم ہو جائے گا اور ہم آپ کو سینوں سے لگالیں گے۔مال و دولت ، عزت و جاہ اور سرداری سے نوازیں گے۔بس آپ ہمارے معبودوں کے بارہ میں اپنے پر نازل ہونے والے کلام میں سے سخت الفاظ نکال دیں یا تعریفی کلمات شامل کر دیں۔پھر اس حوالہ سے بھی دیکھیں کہ کس طرح ممکن ہے کہ اس شان کا رحیم اور کریم جو انسان تو در کنارکسی بلکتے ہوئے جانور کو دیکھ کر بھی بے قرار ہو جایا کرتا تھا۔تڑپتی اور سکتی ہوئی انسانیت کے دکھوں کا مداوا یعنی کلام الہی اپنے ہاتھوں سے زیروز بر کردے؟ نیز یہ کہ اس درجہ کا رحیم انسان جس کا وجود جاں دُشمنوں کے لیے بھی دُعا ہی دُعا تھا اگر اس کے