اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 146 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 146

الذكر المحفوظ 146 ہو جاتے اور بدل و جان اطاعت اختیار کرتے۔لیکن سوچنا چاہیے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یکلخت ہر یک خویش و بیگانہ سے بگاڑ لینا اور صرف تو حید کو جو ان دنوں میں اس سے زیادہ دنیا کے لیے کوئی نفرتی چیز نہ تھی اور جس کے باعث سے صدہا مشکلیں پڑتی جاتی تھیں بلکہ جان سے مارے جانا نظر آتا تھا مضبوط پکڑ لینا یہ کس مصلحت دنیوی کا تقاضا تھا اور جبکہ پہلے اسی کے باعث سے اپنی تمام دنیا اور جمعیت برباد کر چکے تھے تو پھر اسی بلا انگیز اعتقاد پر اصرار کرنے سے کہ جس کو ظاہر کرتے ہی نو مسلمانوں کو قید اور زنجیر اور سخت سخت ماریں نصیب ہوئیں کس مقصد کا حاصل کرنا مراد تھا؟ کیا دنیا کمانے کے لیے یہی ڈھنگ تھا کہ ہر یک کو کلمہ تلخ جو اس کی طبع اور عادت اور مرضی اور اعتقاد کے برخلاف تھا؟ سنا کر سب کو ایک دم کے دم میں جانی دشمن بنادیا اور کسی ایک آدھ قوم سے بھی پیوند نہ رکھا۔جولوگ طامع اور مکار ہوتے ہیں کیا وہ ایسی ہی تدبیریں کیا کرتے ہیں کہ جس سے دوست بھی دشمن ہو جائیں؟ جو لوگ کسی مکر سے دنیا کو کمانا چاہتے ہیں کیا ان کا یہی اصول ہوا کرتا ہے کہ بیکبارگی ساری دنیا کو عداوت کرنے کا جوش دلا دیں اور اپنی جان کو ہر وقت کی فکر میں ڈال لیں۔وہ تو اپنا مطلب سا دھنے کے لیے سب سے صلح کاری اختیار کرتے ہیں اور ہر ایک فرقہ کو سچائی کا ہی ٹریفکیٹ دیتے ہیں۔خدا کے لیے یکرنگ ہو جانا ان کی عادت کہاں ہوا کرتی ہے خدا کی وحدانیت اور عظمت کا وہ کچھ دھیان رکھا کرتے ہیں۔ان کو اس سے غرض کیا ہوتی ہے کہ ناحق خدا کے لیے دکھ اٹھاتے پھریں ؟ وہ تو صیاد کی طرح وہیں دام بچھاتے ہیں کہ جو شکار مارنے کا بہت آسان راستہ ہوتا ہے اور وہی طریق اختیار کرتے ہیں کہ جس میں محنت کم اور فائدہ دنیا کا بہت زیادہ ہو۔نفاق ان کا پیشہ اور خوشامد ان کی سیرت ہوتی ہے۔سب سے میٹھی میٹھی باتیں کرنا اور ہر ایک چور اور سادھ سے برابر رابطہ رکھنا ان کا ایک خاص اصول ہوتا ہے۔مسلمانوں سے اللہ اللہ اور ہندوؤں سے رام رام کہنے کو ہر وقت مستعد رہتے ہیں اور ہر ایک مجلس میں ہاں سے ہاں اور نہیں سے نہیں ملاتے رہتے ہیں اور اگر کوئی میر مجلس دن کو رات کہے تو چاند اور گیٹیاں دکھلانے کو بھی تیار ہو جاتے ہیں ان کو خدا سے کیا تعلق اور اس کے ساتھ وفاداری کرنے سے کیا واسطہ اور اپنی خوش باش جان کو مفت میں ادھر ادھر کا غم لگا لینا انہیں کیا ضرورت؟ استاد نے ان کو سبق ہی ایک پڑھایا ہوا ہوتا ہے کہ ہر ایک کو یہی بات کہنا چاہیے کہ جو تیرا راستہ ہے وہی سیدھا ہے اور جو تیری رائے ہے وہی درست ہے اور جو تو