اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 106
الذكر المحفوظ 106 کہ سورہ حج میں یہ آیت آتی ہے کہ وَمَا اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُولٍ وَّلَا نَبِيِّ إِلَّا إِذَا تَمَنَّى اَلْقَى الشَّيْطَنُ فِی أُمُنِيَّتِهِ یعنی ہم نے تجھ سے پہلے کوئی رسول اور نبی نہیں بھیجا مگر اس کی یہ حالت تھی کہ جب کبھی وہ وحی پڑھتا تھا شیطان اُس کی وحی میں اپنی طرف سے کچھ ملا دیتا تھا۔پھر بعد میں خدا تعالیٰ شیطانی وحی کو منسوخ کر دیتا تھا۔اسی طرح جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ نجم کی آیتیں خانہ کعبہ میں پڑھیں تو شیطان نے (نعوذ باللہ من ذالک ) آپ کی وحی میں یہ بات ملادی كه وتلك الغرانيق العلى و ان شفاعتهن لترتجي جب رسول کریم کی زبان سے یہ الفاظ نکلے تو مکہ کے کفار نے سمجھا کہ آپ نے اپنے دین میں کچھ تبدیلی کر دی ہے اور آپ کے ساتھ سجدہ میں شامل ہو گئے۔جب مکہ میں شور پڑ گیا کہ کفار مسلمان ہو گئے ہیں۔تو کفار نے کہا کہ ہم نے تو صرف اس لیے سجدہ کیا تھا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اپنی تلاوت میں یہ فرمایا تھا کہ وتلك الغرانيق العلى وان شفاعتهن لترتجي جس میں صاف طور پر ہمارے بتوں کو تسلیم کر لیا گیا تھا۔پس جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے بتوں کو تسلیم کر لیا تو ہم نے بھی جواب میں اُن کے خدا کے آگے سجدہ کر دیا۔جب کفار کا یہ قول مشہور ہوا تو مفسرین کہتے ہیں کہ چونکہ حدیثوں سے ثابت ہے کہ اُس وقت کوئی آواز آئی تھی جس میں یہ الفاظ سُنے گئے تھے کہ وتلك الــغـــرانيــق الـعـلــى وان شفاعتهن لترتجی اس لیے معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت کے یہی معنے ہیں کہ ہر نبی کی زبان پر شیطان کبھی کبھی خدائی منشاء کے خلاف الفاظ جاری کر دیتا تھا۔لیکن اس آیت میں الفاظ جاری کرنے کا کوئی ذکر نہیں بلکہ آیت کے صرف اتنے معنے ہیں کہ جب کوئی نبی دنیا میں کوئی خواہش کرتا ہے اور نبی کی خواہش یہی ہوتی ہے کہ دنیا کی اصلاح ہو جائے۔اُس وقت شیطان جو اس کی کامیابی کو نا پسند کرتا ہے اور اس کے راستہ میں روکیں ڈال دیتا ہے۔القسی کے معنے ڈال دینے کے ہوتے ہیں۔پس الْقَى الشَّيْطَنُ فِی اُمُنِيَّتِہ کے یہی معنے ہیں کہ اُس کی خواہشوں کے راستہ میں کوئی چیز ڈال دیتا ہے اور ظاہر ہے کہ شیطان روک ہی ڈالے گا نبی کی مددتو نہیں کرے گا۔پس ان الفاظ سے یہ معنے لینا کہ شیطان اس کی زبان پر شرکیہ الفاظ بھی جاری کر دیتا ہے صریح ظلم ہے۔مگر مشکل یہ ہے کہ اوپر کے بیان کردہ واقعہ کی روایت کو بڑے پایہ کے محدثین نے صحیح تسلیم کیا ہے۔چنانچہ ابن حجر جیسا محدث لکھتا ہے ان ثلاثة اسانيد منها على شرط الصحيح ( فتح البیان) یعنی مختلف راویوں سے جو بڑے ثقہ تھے یہ روایت آتی ہے جن میں سے تین روایتیں اتنی معتبر ہیں جتنی بخاری کی۔اسی طرح بزاز اور طبرائی نے بھی اسے درست تسلیم کیا