اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 96 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 96

الذكر المحفوظ 96 موجود ان قرآنی مسودات کو تلف کر دیا گیا جن کی مدد اور گواہی سے مرکزی صحیفہ تیار کیا گیا تھا اور دیگر قرآنی مسودات بھی تلف کر دیے گئے جو عوام نے اپنے طور پر ذاتی استعمال کے لیے تیار کیے تھے۔تاریخ اسلام اور عربی زبان سے واقفیت رکھنے والا شخص جانتا ہے کہ یہ کام درست تھا اور اس کا مقصود نہ تو کوئی تحریف یابد یا تی تھی اور نہ ہی متصور ہو سکتی ہے۔یہ حفاظت قرآن کے ضمن میں ہی اُٹھایا گیا ایک اہم قدم تھا۔اب صورت حال کچھ یوں تھی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو موجود نہیں تھے جو قرآن کریم کی محافظت کے ضمن میں اُٹھنے والے اعتراضات کے سلسلہ میں حکم تھے۔البتہ آپ کے زیر نگرانی تیار کیے گئے دیگر صحائف کے ساتھ ساتھ ایک ایسا صحیفہ بھی موجود تھا جو امت مسلمہ میں مرکزی صحفہ قرار پایا۔جس پر صحابہ کی متفقہ گواہی موجود تھی کہ یہ صحیفہ قرآن بعینہ وہ ہے جو رسول کریم نے بنی نوع کے سپر د فر مایا اور اس میں کوئی رد و بدل اور کمی بیشی نہیں ہے۔ایک پادری Jhon Gilchrist اس موقع پر ایک وسوسہ یہ پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ حضرت ابوبکر کے زیر نگرانی تیار کیا گیا نسخہ قرآن مرکزی نوعیت کا نہیں تھا بلکہ غیر اہم تھا۔کیونکہ جب تیار ہو گیا تو حضرت عثمان کے دور تک کبھی استعمال نہیں کیا گیا۔بلکہ حضرت ابوبکر پھر حضرت عمر اور پھر حضرت حفصہ (رضوان اللہ علیہم اجمعین ) کی تحویل میں پڑا رہا۔اگر یہ نسخہ ادنی سی بھی اہمیت کا حامل ہوتا ہے تو ضرور اس کا کثرت سے استعمال ہوتا۔اس طرح بلا استعمال رکھ دیا جانا بتاتا ہے کہ مرکزی اہمیت تو کجا اس کی ادنی سی بھی اہمیت نہیں تھی۔اگر یہ پادری صاحب ذرا سا ہوش سے کام لیتے اور تاریخ کا اس طرح مطالعہ نہ کرتے جس طرح وہ بائبل کا مطالعہ کرتے ہیں بلکہ ذرا سا عقل و خرد سے کام لیتے تو معلوم ہو جاتا کہ یہ نسخہ تو بے انتہا اہمیت کا حامل تھا۔حضرت عمرؓ نے اتنی بحث و تمحیص کے بعد حضرت ابو بکر کو راضی کیا تھا۔پھر حضرت زیدہ بھی فرماتے ہیں کہ اس کی تیاری پہاڑ کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقلی سے زیادہ مشکل کام تھا۔کیا اس قدر مشکل کام کا بیڑا اس لیے اٹھایا گیا کہ نیچے جو نسخہ تیار ہو وہ بالکل ہی غیر اہم ہو؟ پھر یہ کام تھا بھی اس قدرا ہم کہ اس کا نہ کرنا حضرت عمر کے الفاظ میں گویا قرآن کریم کا حصہ کثیر ضائع کرنے کے مترادف تھا۔پھر اتنی کثرت سے نسخہ جات موجود ہونے کے باوجود اتنا وقت صرف کر کے اور اس قدر محنت کر کے جو ایک نسخہ بنایا گیا کیسے ممکن ہے کہ اُس کی اہمیت ہی نہ ہو؟ پھر اس کے استناد پر تمام تر شبہات کا قلع قمع کرنے کے لیے گواہیوں کا ایک عدیم النظیر سلسلہ چلا۔کیا ایک ایسے غیر اہم نسخہ کی تیاری کے لیے پوری قوم کی گواہیاں اکٹھی کی گئیں؟ پھر جس نہج پر گواہیاں اکٹھی کی گئیں وہ بھی فی ذاتہ بے نظیر کام تھا۔کیا جس نسخہ کے استناد پر رسول کریم کے سب صحابہ متفق تھے وہ نسخہ غیر اہم قرار دیا جاسکتا ہے؟ بے شمار نسخوں کے موجود ہونے کے باوجود حضرت عثمان نے امت کو ایک صحیفہ پر متفق کرنے کے لیے جس نسخہ قرآن کو چھا کیا وہ دوسرے نسخوں سے کم اہم تھا ؟ لازمی سی بات ہے کہ اُس وقت موجود نسخوں میں سب سے اہم نسخہ یہی تھا