اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 85
عہد خلافت راشدہ میں جمع و تدوین قرآن 85 سے روایات موجود ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم قرآن کریم نزول کے ساتھ ساتھ تحریر کر وایا کرتے تھے اور بخاری میں یہ واضح روایات بھی موجود ہیں کہ قرآن کریم مکمل طور پر تحریری شکل میں موجود تھا۔مگر حضرت ابوبکر فرمارہے ہیں کہ جو کام آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے نہیں کیا وہ کام ہم کس طرح کریں !؟ تحریری شکل میں تو آنحضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم محفوظ کروایا کرتے تھے اور کیسے ممکن ہے کہ حضرت ابوبکر کو اس حقیقت کا علم نہ تھا۔علاوہ اور دلائل کے، خود اس روایت میں یہ شہادت موجود ہے کہ حضرت ابو بکر کو یہ علم تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی وحی ضبط تحریر میں لائی جاتی رہی ہے۔چنانچہ آپ کے یہ واضح الفاظ روایت میں درج ہیں کہ : آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے کاتب وحی بھی تھے۔اس لیے میرا خیال ہے کہ آپ ہی یہ کام کریں۔پھر حضرت زید کے علاوہ بھی صحابہ کے پاس کثرت سے قرآن کریم کی تحریرات موجود تھیں۔کیسے ممکن ہے کہ صحابہ میں اتنی کثرت سے قرآن کریم تحریر ہو رہا تھا مگر حضرت ابوبکر کو اس کا علم بھی نہ ہو۔لازماً حضرت ابوبکر کے اس فرمان کی حکمت پر غور کرنا پڑے گا۔پھر اسی روایت میں ایک اور جگہ آپ حضرت زیڈ سے یہ فرماتے ہیں کہ : "آپ ہی یہ کام کریں کہ مختلف چیزوں پر لکھے ہوئے حصہ ہائے قرآن کو تلاش کریں اور سارے قرآن کو ایک جگہ جمع کر دیں پھر یہ کہ اگر صرف قرآن کریم کو تحریری شکل میں جمع کرنا ہی مقصد تھا تو پھر اس صورت میں یہ بھی ماننا پڑے گا کہ حضرت عمر کو بھی یہ علم نہیں تھا کہ قرآن کریم تحریری صورت میں محفوظ ہو چکا ہے اور یہ بھی ناممکن اور محال ہے۔پس لازماً کوئی ایسا کام پیش نظر تھا جو حضرت رسول کریم نے نہیں کیا تھا اور صحابہ کی شہادت سے اس کام کا پورا کرنا مشکل تر ہوتا جارہا تھا اور وہ صرف تحریری شکل میں جمع کرنے کا کام نہیں ہوسکتا تھا کیونکہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نگرانی میں کر چکے تھے۔اگر کہا جائے کہ ایک جلد میں تحریر کرنا تھا تو یہ کوئی ایسی بات تو نہیں کہ حضرت ابوبکر اور حضرت زید رضی اللہ عنہما اتنا پس و پیش کرتے اور اتنی بے چینی کا اظہار کرتے۔حضرت زیڈ کے پس و پیش کا مطلب تو بالکل سمجھ نہیں آتا کیونکہ آپ تو پہلے بھی تو لکھ چکے تھے۔پس اس حق میں کہ صرف تحریری شکل میں ایک جلد میں جمع کرنا ہی مقصود نہیں تھا ایک بہت مضبوط دلیل اسی روایت سے ملتی ہے اور وہ حضرت زید کا یہ قول ہے کہ: خدا کی قسم ! اگر مجھے کسی پہاڑ کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے کا حکم ہوتا تو وہ مجھ پر اتنا گراں نہ ہوتا جتنا کہ قرآن کا کام مشکل تھا۔اس پر میں نے حضرت ابوبکر سے کہا کہ آپ وہ کام کیونکر کریں گے جو خو د رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے نہیں کیا تھا؟“ کتابت قرآن کا کام تو حضرت زید پہلے بھی کرتے رہے تھے، کیا صرف نیا نسخہ تحریر کروانا آپ کو پہاڑ جیسا