اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 83 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 83

عہد خلافت راشدہ میں جمع و تدوین قرآن 83 علیہ وسلم کے کاتب وحی بھی تھے۔اس لیے میرا خیال ہے کہ آپ ہی یہ کام کریں کہ قرآن کو تلاش کریں اور سارے قرآن کو جمع کر دیں۔حضرت زید بن ثابت کہتے ہیں کہ خدا کی قسم ! اگر مجھے کسی پہاڑ کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے کا حکم ہوتا تو وہ مجھ پر اتنا گراں نہ ہوتا جتنا کہ قرآن کا کام مشکل تھا۔اس پر میں نے حضرت ابوبکر سے کہا کہ آپ وہ کام کیونکر کریں گے جو خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا تھا ؟ لیکن حضرت ابوبکر نے مجھے مسلسل اتنا سمجھایا کہ آخر خدا نے مجھے بھی اس معاملہ میں شرح صدر عطا فرمایا جس بارہ میں حضرت ابوبکر و عمر کو شرح صدر عنایت فرمایا تھا۔تب میں نے مختلف جگہوں اور چیزوں سے قرآن کریم کو تلاش کیا جو کھجور کی ٹہنی کی ڈنٹھل اور پتھر کی باریک سلوں اور لوگوں کے سینوں میں محفوظ تھا۔اس روایت سے مندرجہ ذیل امور واضح ہوئے : 1 - قرآن کریم آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زیر نگرانی حفظ اور تحریر، ہر دو طور پر جمع اور محفوظ ہو چکا تھا۔2۔جنگ یمامہ میں قراء وحفاظ صحابہ کی کثرت سے شہادت اس جمع قرآن کا فوری اور بڑا محرک بنی۔-3 جمع قرآن سے حضرت عمر کی مراد یہ تھی کہ قرآن کریم کو تحریری شکل میں ایک جگہ جمع کیا جائے مگر اس مرتبہ کام کی نوعیت مختلف تھی۔اس طرح تحریر کرنا تھا جس طرح اب سے پہلے کبھی ہوا نہیں تھا اور نہ ہی ہو سکتا تھا۔مندرجہ بالا نتائج کو ذہن میں رکھتے ہوئے اب اس سوال کی طرف متوجہ ہوتے ہیں کہ جب قرآن کریم تحریری شکل میں محفوظ تھا تو پھر کیوں حضرت عمرؓ کے دل میں حفاظ صحابہ کی شہادت سے قرآن کریم کے حصہ کثیر کے ضائع ہونے کا خطرہ پیدا ہوا؟ اور پھر کافی لمبی بحث و تمحیص کے بعد حضرت ابوبکر اور حضرت زید ، حضرت عمرؓ سے متفق ہوئے۔مختلف علماء جو یہ کہتے ہیں کہ حصہ کثیر سے مراد تحریرات کے کھو جانے کا خطرہ تھا، جیسا کہ الاتقان اور البرھان میں یہ روایت ہے کہ اس بات کا خطرہ تھا کہ وہ اصل تحریرات وحی جو پہلی مرتبہ لکھی گئیں ان میں سے کوئی حصہ کہیں ضائع نہ ہو جائے اور ضرورت تھی کہ قرآن کو اولین موقعہ پر ایک جگہ جمع کر لیا جائے (الاتقان فی علوم القرآن جزء اول صفحه 60 / البرهان في علوم القرآن جزء اول صفحه (238) حضرت عمر کی روایت میں تحریرات کے ضائع ہونے کے ڈر کا کہیں ذکر نہیں ہے۔قرآن کے ضائع ہونے کا ذکر ہے اور کیا ایک نسخہ لکھ کر جلد کروا لینے سے قرآن کریم محفوظ ہو جاتا؟ کیا آئندہ جب بھی 700 حفاظ شہید ہوتے تو ایک نسخہ ان کی جگہ لینے کے لیے کافی ہوتا ؟ ذرا سا تجزیہ کرنے پر یہ بات بے وزن معلوم ہوتی ہے۔حضرت ابوبکر کے دور میں جمع قرآن کے ضمن میں سب سے پہلے تو یہ مد نظر رہنا چاہیے کہ جب قرآن کریم کثرت سے تحریری شکل میں موجود تھا تو حفاظ صحابہ کی وفات سے قرآن کریم کی تحریرات کے ضائع ہونے کا