اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 76
الذكر المحفوظ 76 بھی اور بیرونی کی بھی کہ یہ کتاب جو ہمارے پاس ہے، وہی ہے جو خود محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دنیا کے سامنے پیش کی تھی اور اسے استعمال کیا کرتے تھے۔Dr۔Maurice Bucaille لکھتے ہیں: They had the advantage of being checked by people who already knew the text by heart, for they had learned it at the time of the Revelation itself and had subsequently recited it constantly۔Since then, we know that the text has been scrupulously preserved, It does not give rise to any problems of authenticity۔(The bible The Quran and Science (translation from French by Alastair D۔Pannel and The Ahthor)Under Heading Conclusions Pg 250-251) ( جن لوگوں کو حضرت ابو بکر نے جمع قرآن کا حکم دیا تھا) انہیں یہ زائد فائدہ بھی حاصل تھا کہ وہ (متن ) اُن لوگوں سے چیک کروالیا جاتا تھا جنہوں نے وحی کے نزول کے وقت ہی اسے حفظ کرلیا تھا اور بار بار اس کی تلاوت کرتے رہتے تھے۔اس وقت سے ، ہم جانتے ہیں کہ قرآن کریم کا متن بلاشبہ محفوظ ہے اور اس کے استناد پر کوئی سوال نہیں اُٹھتا۔اگر ادنی سا بھی شک ہوتا تو نامی گرامی محققین قرآن کریم کے بارہ میں یہ گواہی کیوں دیتے کہ روئے زمین پر قرآن کریم ہی ایک ایسی کتاب ہے جس کے بارہ میں یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ صدیوں کی اس دھوپ چھاؤں نے اس میں کسی قسم کوئی رد و بدل نہیں دیکھا۔قرآن کریم کا محفوظ ہونا تو آج ایک حقیقت بن چکی۔اب مخالفوں کے سر پیٹنے سے یہ حقیقت نہیں بدل سکتی۔آج اگر کوئی ان کے دھوکہ میں آ بھی گیا تو سوچنے کی بات ہے کہ قرآن کریم کی حفاظت پر اس سے کیا اثر پڑے گا۔اس کے بعد ا بن وراق کہتا ہے : ” پھر ہمارے پاس شیطانی آیات کا قصہ ہے جو یہ بتاتا ہے کہ محمد (ﷺ) :۔نے خود بھی کچھ آیات خرد برد کی ہیں۔اس وسوسہ کا مفصل جواب قرآن کریم میں تحریف کے الزامات کے جواب میں درج کریں گے۔یہاں اتنا کہنا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ جس بنیاد پر تم یہ نتیجہ نکال رہے ہو اس کا جھوٹ اور دجل تو گزشتہ سطور میں ظاہر ہو گیا۔پس جب بنیاد ہی جھوٹی ہے تو نتیجہ کیسے درست مانا جاسکتا ہے۔مضمون کی ترتیب قائم رکھنے کے لیے جمع و تدوین قرآن کے دوسرے دور کے مطالعہ کا آغاز کرتے ہیں۔